حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 53 of 104

حیاتِ ناصر — Page 53

حیات ناصر 53 عیبوں کو تو نے میرے اغیار سے چھپایا تھا تیرے بس میں جتنا عزت میری بنائی صدمہ سے میرے صدمہ تجھ کو ہوا ہمیشہ جب شاد مجھ کو پایا تو نے خوشی منائی تھی میرے دشمنوں کی تو جان و دل سے دشمن اور میرے دوستوں سے تیری رہی صفائی جو کچھ تھا میرا مذہب تھا وہی تیرا مشرب تھی تیرے دل میں الفت ایسی میری سمائی مجھ پر کیا تصدق جو تیرے پاس تھا زر یاں تک کہ پاس تیرے باقی رہی نہ پائی کرتا ہوں شکر حق کا جس نے تجھے ملایا اور میری تیری قسمت آپس میں یوں ملائی ہو تجھ پہ حق کی رحمت تجھ کو عطاء ہو جنت اور تیری میری اک دم ہو دے نہ وہاں جدائی آرام تجھ کو دیوے فضل و کرم سے مولیٰ ہر رنج و غم سے بخشے مالک تجھے رہائی ہرگز نہ تو دکھی ہو ہر وقت تو سکھی ہو بچوں کا عیش دیکھے تو اور تیری جائی فضل خدا کی بارش دن رات تجھ پر بر سے پانی میں مغفرت کے ہر دم رہے نہائی برسے دولت ہو تجھ سے ہمدم عزت ہو ساتھ تیرے اولاد میں ہو برکت۔کہلائے سب کی مائی تیرا نہیں ہے ثانی لاکھوں کی تو ہے نانی عیسی سے کر کے رشتہ دولت یہ تو نے پائی اسلام پر جئیں ہم ایمان سے مریں ہم ہر دم خدا کے در کی حاصل ہو جبہ سائی جب وقت موت آوے بیخوف ہم سدھاریں دل پر نہ ہو ہمارے اندوہ ایک رائی مہدی کے مقبرہ میں ہم پاس پاس سوئیں دنیا کی کشمکش سے ہم کو ملے رہائی اک اور بھی دعا ہے اب میرے دل میں آئی ہے جوش کا یہ عالم جاتی نہیں چھپائی قوم کو ہدایت اللہ کی آئے نصرت آقا کرے ہمارا دنیا کی راہنمائی مثل مدینہ ہووے اسلام کا یہ مرکز قصبہ میں قادیان کے آئے نظر خدائی مہدی کو لوگ مانیں عیسی کے معتقد ہوں پھر جائے چار جانب اسلام کی دوہائی دنیا سے دور ہووے ہر طور کی کدورت جس سمت آنکھ اُٹھے آئے نظر صفائی اسلام میں ہو داخل بس فوج فوج دنیا اعدا گلے سے مل کر بن جائیں بھائی بھائی آنکھوں سے اپنی ہم کو وہ دن خدا دکھائے جب قوم سے ہماری کل دور ہو برائی آنکھیں کھلیں ہماری روشن دماغ ہوویں ہووے شعار اپنا تقویٰ و پارسائی ہو