حیاتِ ناصر — Page 26
حیات ناصر 26 اور خاص کو چہ اور چوک کا فرش مکمل ہو جائے۔بڑی مسجد تک فرش کا یہ سلسلہ وسیع ہو چکا ہے مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جہاں ٹوٹ جاتا ہے وہاں درستی کی نوبت نہیں آتی اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس جذ بہ اور فطرت کے کسی وجود کو کھڑا کر دے گا۔اسی سلسلہ میں مجھے حضرت نانا جان کی ان کوششوں کا بھی ذکر کرنا ہے جو آپ مساجد کے فرش کے لئے کرتے تھے۔مسجد میں دریوں کا فرش سب سے اول حضرت میر صاحب نے پچھوایا اور یہ خیال ان کے دل میں پیدا ہوا کہ اس محترم مسجد میں دریوں کا فرش ہونا چاہیئے چنانچہ انہوں نے احباب سے چندہ کر کے دریوں کا فرش تیار کرایا۔منبر بنوایا مسجد اقصیٰ میں خطبہ کے لئے منبر نہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں عام طور پر حضرت مولا نا عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ یا حضرت حکیم الامہ محراب کے پاس کھڑے ہو جاتے تھے اور خطبہ دیتے تھے اس وقت اتنی کثرت بھی نہ تھی لیکن جب مسجد وسیع ہوگئی اور لوگوں کی کثرت ہوئی تو حضرت میر صاحب نے مسجد کے لئے منبر بنوایا جو منبر اب تک ان کی نشانی اور یادگار ہے۔جس مقام پر یہ منبر پڑا ہے یہاں میر صاحب نے ہی اسے رکھوایا تھا۔اس منبر سے برکات خلافت کا جو ظہور ہو رہا ہے وہ سب جانتے ہیں کہ قرآن مجید کے حقائق و معارف کا ایک دریا کس طرح بہتا رہتا ہے۔حضرت میر صاحب نے نہایت شوق اور بڑے اخلاص سے اسے تیار کرایا تھا۔محنت و جفاکشی کی خصوصیات حضرت نانا جان بھی اور کسی حال میں سنت اور پیار نہیں رہنا چاہتے تھے اور نہیں رہے۔وہ سلسلہ کا کوئی نہ کوئی کام کرتے رہتے تھے اور اکثر کام ایسے ہوتے تھے جو اوائل میں سطحی نظر والوں کے لئے موجب نقصان نظر آتے تھے۔ڈھابوں کی بھرتی کا کام یہ سب کو معلوم ہے کہ جہاں آجکل مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ کی عمارت ہے یہاں بہت بڑی ڈھاب تھی حضرت نانا جان کی دور رس نظر نے سلسلہ کی ترقی اور ضروریات کو آج سے قریباً تمیں برس پیشتر دیکھا وہ حضرت