حیاتِ ناصر — Page 25
حیات ناصر 25 کے لئے چلتے۔وہ باتیں اس وقت اور آج بھی عجیب معلوم ہوتی ہیں مگر اس روح کو تلاش کریں تو وہ کمیاب ہے۔حضرت میر صاحب جماعت میں ایک ایسا جذبہ پیدا کرنا چاہتے تھے کہ سب ایک وجود بن جائیں اسی سلسلہ میں انہوں نے دعا کی ایک مجلس قائم کی۔قدرت ثانیہ کے لئے دعا کی جاتی تھی۔ان دعاؤں میں بھی ایک لذت تھی۔غرض آپ اپنے بھائیوں کی ہمدردی ان کی محبت ومعاونت میں سرشار تھے۔اور ان میں وہی رنگ پیدا کر دینا چاہتے تھے۔رفاہ عام کا جذبہ حضرت نانا جان میں یہ جذبہ خصوصیت سے قابل احترام تھا کہ آپ ہر اس کام میں جو کسی حیثیت سے پبلک گوڈ ( رفاہ عام ) کا کام ہو بہت دلچسپی لیتے تھے اور جب تک اس کام کو کر نہ لیتے تھے سست نہ ہوتے تھے۔ان میں ایک عزم مقبلا نہ تھا۔الدار اور مسجد مبارک کے سامنے جو فرش لگا ہوا ہے یہ ان کی ہی ہمت اور کوشش کا نتیجہ ہے حقیقت میں اگر غور کیا جائے تو یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ جہاں ہمارے سلسلہ کا لاکھوں روپیہ کا خرچ ہے اور تعمیرات پر بھی آئے دن کچھ نہ کچھ خرچ ہوتا رہتا ہے اور شہر میں پنچایت بھی ہے مگر نہ تو سلسلہ کی کارکن جماعت کو اور نہ پنچایت کو یہ توجہ ہوئی کہ اس اہم اور ضروری مقام پر فرش لگا دینا چاہیئے۔اس مقام پر جو آج مصفا اور درست نظر آتا ہے ابتداء کیچڑ وغیرہ رہا کرتا تھا اور نالیاں نہ ہونے کی وجہ سے احباب کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔سب سے اول حضرت نانا جان نے اس طرف توجہ کی اور اس میدان کی سطح کو درست کرنے کا کام شروع کیا اور پھر نالیوں کے ذریعہ پانی کے نکاس کا انتظام کیا۔اس کام میں حضرت نواب صاحب کی توجہ کا بہت بڑا دخل ہے انہوں نے اپنے خرچ سے اسے درست کرایا اور حضرت نانا جان نے اس کو درجہ تکمیل تک پہنچایا اور فرش لگا کر راستہ کو درست کر دیا۔اس سے پہلے ہر شخص کی نظر اس کمی کو محسوس کرتی تھی مگر وہ اس احساس سے آگے نہ جاتی تھی۔حضرت نانا جان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اس چوک اور بازار میں پورے طور پر فرش لگا دیں لیکن بعض حالات اور تجاویز نے انہیں کامیاب نہ ہونے دیا۔فرش کے متعلق بعض لوگوں کا خیال تھا کہ چونکہ گڈوں اور یکوں کی آمد ورفت بکثرت ہے اس لئے آئے دن یہ فرش ٹو شما ر ہے گا اس سے بہتر ہے کہ نہ لگوایا جائے چنانچہ وہ لگ نہ سکا اور اب تک اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے مگر کوئی ناصر نواب کی روح کا آدمی کھڑا ہو تو امید ہے اس ضروری