حیاتِ ناصر — Page 20
حیات ناصر 20 وہ جانتا تھا کہ اوور سیر اور سب اوور سیر ہزاروں روپیہ کمالیتے ہیں جو شخص ایک سور و پیہ داخل نہیں کر سکتا اور اسے علم ہے کہ اس عدم ادخال کا نتیجہ ملازمت سے علیحدگی ہے قرض بھی نہیں لیتا کہ اس کے ادا کرنے کا ذریعہ اس کے پاس نہیں یقیناً وہ امین ہے اور میر صاحب کو ادخال ضمانت سے مستثنیٰ کر دیا۔یہ تھا اثر ان کی دیانتداری اور راستبازی کا۔تمام محکمہ کو اس پر حیرت تھی۔میر صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک بنگالی ہیڈ کلرک ان کا دوست اسی محکمہ میں تھا اس نے ہر چند چاہا کہ وہ اپنے پاس سے اس زرضمانت کو داخل کر دے مگر میر صاحب نے اس کو بھی اجازت نہ دی۔یہ ایک ہی واقعہ میر صاحب کی سیرۃ کے پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے اس سے ان کی راستبازی دیانت ادائے قرض کا فکر اور عہد کی پابندی ایک ہی وقت ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے اس بات کی پرواہ نہ کی کہ ان کے ہم چشم اور رفقاء کا رکیا کہیں گے کہ ایک سوروپیہ میر صاحب کے پاس نہیں۔یہ تو بھلا ملا زمت کا معاملہ تھا لوگ تو عام طور پر وضعداری قائم رکھنے کے لئے بھی اگر پاس نہ بھی ہو تو انکار نہیں کرتے اور خواہ قرض لے کر ہی دینا پڑے دوستوں اور دوسروں کے سامنے اپنی تہید ستی کا اظہار نہیں کرتے اور یہ ظاہر ہی نہیں ہونے دینا چاہتے کہ ان کے پاس روپیہ نہیں مگر حضرت میر صاحب نے اس جھوٹی مشیخت کی پرواہ نہ کی اور صاف طور پر اپنی حالت کا اظہار کر دیا۔ہم سب جانتے ہیں کہ ایسے موقع پر لوگ کس سپرٹ سے کام لیتے ہیں۔غرض وہ راستبازی اور جرات کے ایک مجسمہ تھے اور سچی بات کے کہنے سے خواہ وہ کسی کے بھی خلاف ہو کبھی رُکتے نہیں تھے اور یہ مشل بھی بارہا پڑھا کرتے تھے : سچی بات سعد اللہ کہے سب کے منہ سے انزار ہے۔راستبازی جرأت اور دلیری ان کے محکمہ میں ضرب المثل تھی اور یہ جرات محض ان کی دیانت اور ادائے فرض کا نتیجہ تھی۔وہ کبھی بڑے سے بڑے افسر سے بھی نہ ڈرتے تھے اور اپنے معاملات کے متعلق اس دلیری سے جواب دیا کرتے تھے کہ دوسروں کو حیرت ہوتی تھی۔باوجود طبیعت میں تیزی اور غصہ کے کسی سے دشمنی اور عداوت نہ ہوتی تھی اور دل کو ہمیشہ کینہ سے صاف رکھتے تھے اور جب حق مل جاوے اور اپنی غلطی کا علم ہو جاوے تو غلطی سے رجوع کر کے حق کو قبول کرنے میں ذرا بھی تامل نہ ہوتا تھا۔عام طور پر وجاہت ادعائے علم و نجابت انسان کو اپنی بات کی بیخ کی عادت ڈال دیتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے میر صاحب قبلہ کو اپنی غلطی سے رجوع کرنے میں بھی جرات اور دلیری عطا کی تھی۔جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے کچھ عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ سمجھ میں نہ آیا مخالفت کرنے لگے لیکن جب اس کی حقیقت کھل گئی تو اپنی غلطیوں کا علی رؤس الاشہا دا قرار کیا اور ایک اعلان شائع کر کے رجوع کیا اس کے بعد ان کے بہت سے دوستوں نے جو مخالفت کر رہے تھے ان کو پھر جاہ ومستقیم سے