حیاتِ ناصر — Page 15
حیات ناصر 15 کے پاس عطا فرمائی ہے۔ہائے دنیا تیرے عجیب کرشمے ہیں میں نے اس تھوڑے سے زمانہ میں ترقیاں بھی دیکھیں۔تنزل بھی ملاحظہ کئے لیکن میرے مولا نے جس قدر فضل مجھ پر کئے اس کا شکر میں ادا نہیں کرسکتا۔اس میرے محسن نے مجھے انسان بنایا، مسلمان بنایا، عالی نسب بنایا ، اپنے پیارے ابراہیم و اسمعیل اور اپنی نیک اور صابرہ ہاجرہ کی نسل میں پیدا کیا، پھر اپنے بندے رسول مقبول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعلی بن ابی طالب خدیجہ الکبری فاطمہ زہرا کی اولاد میں ہونے کی عزت بخشی۔امام حسین امام زین العابدین امام باقر و امام جعفر صادق رضی اللہ عنہم اجمعین کی نسل میں ہونے کا شرف بخشا، پھر خواجہ محمد ناصر و خواجہ میر دردصاحب علیہ الرحمۃ کی ذریت میں پیدا کر کے دلی کے معزز خاندان میں بنایا۔بیوی معزز شریف اور رحمدل عطا کی، بچے نہایت شریف اور اہل کمال اور مودب بخشے، بیٹی وہ عنایت فرمائی جو قیامت تک بہ سبب مسیح علیہ السلام کی بیوی ہونے کے معزز اور ممتاز رہے گی ام المومنین ہو کر ایک عالی شان قوم کی ماں کہلائے گی۔نواسے ایسے عطا فرمائے جو ہر ایک آیت اللہ اور نشان عظیم جن کا ثانی ملنا مشکل ہے۔داماد ایسا دیا جس کا ثانی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نہیں۔حضرت صاحب سے پہلے عبداللہ غزنوی سے بیعت کی تھی وہ بھی اپنے وقت کا لاثانی پیشوا تھا اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں۔بعد حضرت صاحب کے جس سے بیعت کی وہ بھی نسب اور علم وعمل اور خصوصاً علم قرآن وحدیث میں یگانہ آفاق ہے۔جو دیا حق نے مجھے اچھا دیا جو دیا رتبہ مجھے اعلیٰ دیا اور انعام النبی پر شکریہ پرشا الحمد لله ثم الحمد للہ اب بھی اگر میں مبارک اور لائق مبارک باد نہیں تو اور کون ہوگا۔احمدی تو مجھے اپنا بزرگ ہی سمجھتے ہیں غیروں سے ہمارا تعلق نہیں وہ جو چاہیں کہیں جو چاہیں سمجھیں۔میرے اللہ جل شانہ نے مجھے بڑی عزت بخشی ہے اب دوسروں کی عزت افزائی کا میں محتاج نہیں ہوں۔اللہ تعالیٰ کا رتبہ بخشا ہوا اچھا ہوتا ہے یا لوگوں کا لوگ تو غلط راہ بھی اختیار کر لیتے ہی اللہ تعالیٰ ہمیشہ صراط مستقیم پر رہتا ہے کبھی وہ پاک پروردگار غلط راہ اختیار نہیں فرما تاوہ تمام اغلاط سے پاک ہے جو اس عالم الغیب کے خلاف کرتا ہے وہ خود سرکش یا بے وقوف ہے۔اس سے ناراض ہونا بھی حماقت ہے البتہ جو نقص مجھ میں ہیں مجھے ان کا خیال ضرور چاہیئے کہ وہ میری عزت کے چاند کے واسطے حکم گرہن رکھتا ہے۔مجھ میں چند عیب ہیں ایک غصہ زیاہ ہے اور محل و بے محل آجاتا ہے، دوسرے ہر کہہ ومہ سے بے تکلف ہو جاتا ہوں تیسرے کینہ وروں کی طرح اندر کچھ نہیں رکھتا ظاہر کر دیتا ہوں اور چھوٹے بڑے کی رعایت نہیں کرتا جو بات حق ہوتی ہے اس کے ظاہر کرنے میں مجھے کبھی تامل نہیں ہوتا۔میری نظر میں امیر وغریب یکساں ہیں