حیاتِ ناصر — Page 6
حیات ناصر 6 حضرت مسیح موعودؓ سے ملاقات اور تعلقات کی ابتدا اب میرے حال میں ایک اور تغیر پیدا ہوا۔میں سٹھیالی اور کا ہنودان میں ایک مدت تک ملازم رہا اور چند سال کے بعد کچھ عرصہ قادیان میں بھی رہنے کا مجھے اتفاق ہوا اور حضرت مرزا صاحب سے بذریعہ ان کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کے جو میرے ماموں صاحب کے واقف تھے ملاقات ہوئی۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ حضرت مرزا صاحب براہین احمدیہ لکھ رہے تھے۔ہنوز وفات مسیح ناصری کا تذکرہ بالکل نہ تھا اور وہ بزعم دنیا آسمان ہی پر تشریف رکھتے تھے۔چند ماہ کے بعد اس عاجز کی بدلی قادیان سے لاہور کے ضلع میں ہوگئی اس وقت چند روز کے لئے بندہ اپنے اہل و عیال کو حضرت مرزا صاحب کے مشورہ سے ان کے دولت خانہ چھوڑ گیا تھا اور جب وہاں مکان کا بندوبست ہو گیا تو آکر لے گیا۔میں نے اپنے گھر والوں سے سنا کہ جب تک میرے گھر کے لوگ مرزا صاحب کے گھر میں رہے مرزا صاحب کبھی گھر میں داخل نہیں ہوئے بلکہ باہر کے مکان میں رہے اس قدر ان کو میری عزت کا خیال تھا۔وہ بھی عجب وقت تھا حضرت صاحب گوشہ نشین تھے۔عبادت اور تصنیف میں مشغول رہتے تھے لالہ شرمیت اور ملاوامل کبھی کبھی حضرت صاحب کے پاس آیا کرتے تھے اور حضرت صاحب کے کشف اور الہام سنا کرتے تھے بلکہ کئی کشوف اور الہاموں کے پورے ہونے کے گواہ بھی ہیں۔اس وقت یہ بچے اور نرم دل تھے اس کے بعد قوم کے دباؤ میں آکر حضرت صاحب سے جدا ہو گئے اور یہ دونوں جب حضرت صاحب کا نکاح دتی میں میرے ہاں ہوا تھا تب بھی ساتھ گئے تھے۔اس وقت یہ مصدق تھے پیچھے مکذب بنے۔اس وقت حضرت مرزا صاحب کی شہرت بالکل نہیں تھی کوئی جانتا بھی نہ تھا کہ مرزا غلام احمد صاحب کسی زمانہ میں مسیح موعود و مہدی مسعود بنیں گے اور تمام جہان میں ان کی شہرت ہو جاوے گی اور ان کے پاس دور دراز ملکوں سے لوگ حاضر ہونگے اور ان کو ملک ملک سے تھنے پہنچیں گے۔حضرت ام المومنین کے نکاح کی تحریک چند سال کے بعد مجھے خبر ملی کہ براہین احمدیہ مرزا صاحب نے چھپوا کر شائع فرما دی ہے۔بندہ نے بھی ایک نسخہ خریدا پھر عاجز نے چند امور کے لئے حضرت مرزا صاحب سے دعا منگوانے کے لئے خط لکھا جن میں۔ایک امریہ بھی تھا کہ دعا کرو مجھے خدا تعالیٰ نیک اور صالح داماد عطا فرمادے۔اس کے جواب میں مجھے حضرت مرزا صاحب نے تحریر فرمایا کہ میرا تعلق میری بیوی سے گویا نہ ہونے