حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 5 of 104

حیاتِ ناصر — Page 5

حیات ناصر 5 شادی خانہ آبادی اب ایک اور عالیشان تغیر مجھے میں پیدا ہوا یعنی ۱۶ سال کی عمر میں میری داناماں نے نشیب وفراز زمانہ کو مدنظر رکھ کر میری شادی ایک شریف اور سادات کے خاندان میں کر دی اور میرے پاؤں میں بخیال خود ایک بیڑی پہنا دی تا کہ میں آوارہ نہ ہوں اس باعث سے میں بہت سی بلاؤں اور ابتلاؤں سے محفوظ رہا اور میری والدہ صاحبہ کی اس تجویز نے مجھے بہت ہی فائدہ پہنچایا۔اللہ تعالیٰ انہیں جنت نصیب کرے آمین۔اس بابرکت بیوی نے جس سے میرا پالا پڑا تھا مجھے بہت ہی آرام دیا اور نہایت ہی وفاداری سے میرے ساتھ اوقات بسری کی اور ہمیشہ مجھے نیک صلاح دیتی رہی اور کبھی بے جا مجھ پر دباؤ نہیں ڈالا نہ مجھ کو میری طاقت سے بڑھ کر تکلیف دی۔میرے بچوں کو بہت ہی شفقت اور جانفشانی سے پالانہ کبھی بچوں کو کو سانہ مارا۔اللہ تعالے اسے دین ودنیا میں سرخرور کھے اور بعد انتقال جنت الفردوس عنایت فرما دے۔بہر حال عسرویسر میں میرا ساتھ دیا جس کو میں نے مانا اس کو اس نے مانا جس کو میں نے پیر بنایا اس نے بھی اس سے بلا تامل بیعت کی چنانچہ عبداللہ صاحب غزنوی کی میرے ساتھ بیعت کی۔نیز میرزا صاحب کو جب میں نے تسلیم کیا تو اس نے بھی مان لیا ایسی بیویاں بھی دنیا میں کم میسر آتی ہیں۔یہ بھی میری ایک خوش نصیبی ہے جس کا میں شکر گزار ہوں۔کئی لوگ بسبب دینی اور دنیوی اختلاف کے بیویوں کے ہاتھ سے نالاں پائے جاتے ہیں جو گویا کہ دنیا میں دوزخ میں داخل ہو جاتے ہیں میں تو اپنی بیوی کے نیک سلوک سے دنیا ہی میں جنت میں ہوں۔ذالک فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم شادی کے تین سال بعد میرے گھر میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک با اقبال اور نیک نصیب لڑکی پیدا ہوئی جولڑکوں سے زیادہ مجھے عزیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عالیشان رتبہ بخشا ہے وہ ہمارے زمانہ کی خدیجہ اور عائشہ ہے رضی اللہ عنہما۔اس کے پیدا ہونے کے بعد میری والدہ صاحبہ کی دعاؤں کی برکت سے جس جائیداد کے حاصل کرنے کے لئے میرے باپ پورب جا کر وہیں رہ گئے تھے ہمیں بغیر ظاہری کوشش کے پانچ ہزار روپے کی قیمتی جائیداد حاصل ہوئی۔جب میری عمر ۲۱ سال کی ہوئی اور بے کاری کے سبب سے آوارہ ہو چلا تو میری خیر اندیش والدہ نے پھر میرے ماموں صاحب کے پاس لاہور میں بھیج دیا وہاں پہنچ کر میں ان سے ایک سال تک تعلیم پاتارہا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر ماموں صاحب کی سفارش سے بعہدہ سب اوورسیری امرتسر میں ملازم ہو گیا اس وقت اس عاجز کی عمر ۲۲ سال کی تھی۔