حیاتِ ناصر — Page 4
حیات ناصر 4 ہیں ایک کوس بھی سفر طے نہیں ہوا۔صبح کو نظام الدین اولیا کی بستی میں پہنچے اور وہاں رہ کر چند روز اپنے مقتولوں کو روتے رہے۔زیادہ وقت یہ پیش آئی کہ اب بعض کے پاس کچھ کھانے کو بھی نہ رہا تھا کہ نا گہاں رحمت الہی نے دستگیری فرمائی۔”پانی پت میں ورود اور امن کا سامان“ ایک میرے ماموں صاحب محکمہ نہر میں ڈپٹی کلکٹر تھے ان کا کنبہ ہم سے پہلے پانی پت میں پہنچ چکا تھا۔جب ان کو ہماری پریشانی کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو چند چھکڑے دے کر ہمارے لینے کے لئے بھیجاوہ ہم سب کو ان چھکڑوں پر بٹھا کر پانی پت لے گئے۔وہاں پر پہنچ کر ذرا ہمیں آرام و اطمینان ملا یعنی ہمارے حال میں ایک اور تغیر و تبدل ہوا۔ڈھائی برس ہم وہاں رہے۔پانی پت کے لوگوں نے دتی کے بر بادشدہ لوگوں سے نیک سلوک کیا اور ان کو اپنے ہاں جگہ دی ان کے لئے سامان آرام مہیا کیا اللہ تعالیٰ ان کو بخشے اور ان کی اولا د پر رحم فرمادے۔ڈھائی سال کے بعد پھر دتی آباد ہوئی اور تمام بے وطنوں کو ان کے وطن میں آباد ہونے کی اجازت مل گئی۔اہل دتی چاروں طرف سے آکر آباد ہونے لگے۔میرا کنبہ بھی دلی میں آکر اپنے اپنے گھروں میں آباد ہوا بجز گھروں کی چار دیواری کے اور سب کچھ لٹ چکا تھا یہاں تک کہ ہمارے گھروں کے کواڑ بھی لوگ اُتار کر لے گئے تھے صرف چوکھٹیں باقی رہ گئیں تھیں۔ابتدائی تعلیم اب دنیا نے اور رنگ بدلا اس وقت میری عمر بارہ سال کی ہو چکی تھی۔اس وقت میری عالی حوصلہ ماں نے میری بہتری اور تعلیم کے لئے مجھے میرے ماموں میر ناصر حسین صاحب کے پاس ملک پنجاب میں بمقام مادھو پور ضلع گورداسپور بھیج دیا۔تین چار سال تک میں اپنے ماموں صاحب کے پاس مادھو پور میں رہامگر میری کوتا ہی کے باعث کوئی علم مجھے حاصل نہ ہوا اور میں نے اپنے بڑے بھائی صاحب کے مشورہ سے انگریزی پڑھنے سے انکار کر دیا ہاں یہ فائدہ مجھے ہوا کہ میرے بزرگ بدعتی تھے میں اہلحدیث بن گیا اور خاندان شاہ ولی اللہ صاحب سے مجھے محبت ہوگئی۔یہ بھی مذہبی تبدیلی مجھ میں خدا کے فضل سے پیدا ہوئی ورنہ بظاہر اس کی کوئی صورت نہ تھی کیونکہ میرے ماموں صاحب رتر چہتر المعروف مکان شریف کے مرید تھے اور ہمارا اصلی خاندان یعنی خواجہ میر در دصاحب کا گھرانہ بھی مبتلائے بدعات ہو چکا تھا اور برائے نام حنفی المذہب کہلاتا تھا۔