حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 80 of 104

حیاتِ ناصر — Page 80

حیات ناصر 80 تم سے نہیں سوال مرا اُس سے ہے سوال رکھا ہے میں نے طاق پہ سب ننگ و عار کو مولا کے نام پر میں سوالی بنا ہوں اب گل جانتا ہوں میں رہ مولا میں خار کو اللہ کا جو ہے وہ مجھے دے گا اس کے نام خالی نہیں خدا نے کیا روزگار کو عاقل خدا کے نام پہ دیتے ہیں مال و زر اور بے وقوف دیتے ہیں پیسے دیتے ہیں پیسے سُنار کو کوشش سے مجھ کو کام ہے کرتا ہوں میں جہاد میں جیت ہی سمجھتا ہوں اس رہ میں ہار کو پروا ہے طعن کی نہ ہے تعریف کی خوشی اک دُھن سی لگ رہی ہے اب اس خاکسار کو مولا ہی کے ہے فضل کا ناصر کو انتظار وہ خود کرے گا دور اب اس انتظار کو حضرت میر صاحب کے آخری ایام اور آپ کی وفات حضرت میر صاحب کے قومی بہت اعلیٰ درجہ کے تھے۔لیکن آخر قوئی میں انحطاط شروع ہوا با ایں آپ آخری وقت تک چلتے پھرتے رہے جیسا کہ میں پہلے بھی کہیں لکھ آیا ہوں نمازوں کے لئے عموماً آپ مسجد مبارک میں آجایا کرتے تھے۔چونکہ قومی کاموں اور ضرورتوں کے لئے آپ چندہ جمع کیا کرتے تھے اس لئے یہ خیال اس قدر غالب تھا کہ ہمیشہ جب کسی شخص سے ملتے تو اسے کہتے چندہ لاؤ چونکہ جماعت میں ان کی عزت اور وقار اور ان کے مخلصانہ اور بے غرضانہ کام کا اثر اور وقعت تھی کوئی شخص انکار کرنے کی جرأت نہ کرتا تھا اور جو کچھ بھی اس سے ممکن ہوتا پیش کر دیتا۔ان کی بیماری کو کبھی ایسا خطرناک نہیں سمجھ گیا تھا۔تاہم چونکہ پیرانہ سالی اوراعصابی بیاری تھی سعادت مند بیٹوں نے ایک مستقل آدمی ہمیشہ ان کے ساتھ رہنے کا انتظام کر دیا تھا۔وہ جہاں جاتے آدمی ان کے ساتھ رہتا۔۱۹۲۴ ء میں جبکہ حضرت خلیفتہ اسیح لنڈن گئے ہوئے تھے۔آپ کی وفات ہوگئی اور حضرت کولنڈن بذریعہ تار اطلاع ہوئی اناللہ وانا الیه راجعون۔حضرت خلیفہ امسیح نے لنڈن کی عارضی مسجد واقعہ پیٹی میں جمعہ کے روز آپ کا جنازہ غائب پڑھا۔حضرت میر صاحب کی وفات بروز جمعہ مورخه ۱۹ ستمبر ۱۹۲۳ء نو بجے دن کے واقعہ ہوئی اور بعد نماز جمعہ باغ میں ایک مجمع کثیر کے ساتھ جناب مولوی شیر علی صاحب امیر جماعت نے آپ کا جنازہ قادیان میں پڑھا اور اسی روز مقبرہ بہشتی میں دفن کر دیا۔