حیاتِ ناصر — Page 79
حیات ناصر 79 کا ثواب رہے گا۔اس تحریک سے ایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ حضرت میر صاحب کو خدا تعالیٰ نے خارق عادت استقلال بخشا تھا اور ضعفاء اور غرباء کی ہمدردی اور مدد کے لئے انہیں بہت بڑا جوش تھا۔وہ اس بات سے کبھی تھکتے اور گھبراتے نہ تھے۔وہ ان ہمہ خیر تحریکوں کے لئے جب چندہ کے لئے جاتے اور کسی جگہ سے نہ ملتا توان کی ہمت پست نہ ہوتی اور چھوڑ نہ دیتے اور باوجود پوری کوشش اور سرگرمی کے ان کا تو کل اور بھروسہ خدا ہی پر ہوتا تھا۔ان کے ان جذبات کا اظہار میر صاحب کی ذیل کی نظم سے ہوتا ہے۔آتا نہیں قرار دل بے قرار کو جب تک کہ دیکھ لیوے نہ وہ روئے یار کو جنگل میں جاتا ہے کبھی آتا ہے شہر میں دیوانہ وار دوڑتا ہے کوہ سار کو ناصر بتا کہ تجھ کو یہ کیا ہو گیا ہے آہ شہروں میں پھرتا ہے کبھی جاتا ہے بار کو لاہور میں کبھی کبھی پیشور میں ہے کرتا تو جاتا ہے چھوڑ چھوڑ کے خویش و تار کو بنگالہ کبھی بھی مدراس میں ہے تو تو تلاش کسی گل عذار کو ہے دگن میں ہے کبھی کبھی ہے بمبئی میں تو دریا کو دیکھتا کبھی آبشار کو ہے کس کی تلاش ہے ترا دل کس سے ہے لگا اے دوست کچھ زبان پہ تو لا حال راز کو معلوم حال ہو تو کریں ہم بھی کچھ مدد تدبیر سے نکالیں ترے دل کے خار کو اے دوستو! بتاؤں تمہیں کیا میں اپنا حال ہے اختیار میں نے کیا ایسے کار کو درکار جس میں زر ہے مجھے زر کی ہے تلاش کرتا ہوں اس میں صرف میں لیل و نہار کو زر کی طلب میں پھرتا ہوں ہر سمت بھاگتا تم دیکھتے رہو میرے صبر و سہار کو آئے گی ایک دن مرے مولا کی بس پھر دیکھ لو گے تم مرے اس کاروبار کو مدد مسجد تو بن گئی ہے شفاخانہ بھی بنا کر لو گے تم ملاحظہ میری بہار کو کچھ دوستوں کے واسطے بن جاویں تھوڑے گھر دیکھوں میں اپنی آنکھ سے ان کی قطار کو بیمار عورتوں کے لئے اک مکان ہو جھانکے نہ کوئی مرد کبھی ان کے دار کو ہوں میری زندگی میں یہ تیار کل مکان میں بامراد دیکھ لوں ان ہر چہار کو مقدور ہے تو لاؤ روپے کچھ کرو مدد دولت کرو شار کرو شاد یار کو دو نہ دو وہ دیوے گا عاجز کو بالضرور ٹھنڈا کرے گا یار میرے دل کی نار کو تم