حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 52 of 104

حیاتِ ناصر — Page 52

حیات ناصر 52 حرم محترم اے میرے دل کی راحت میں ہوں تیرا فدائی تکلیف میں نے ہرگز تجھ سے کبھی نہ پائی صورت سے تیری بڑھ کر سیرۃ میں دلر بائی میں ہوں شکستہ خاطر اور تو ہے مومیائی مجھکو نہ چین تجھ بن بے میرے سکھ نہ تجھ کو میں تیرے غم کی دارو تو میری ہے دوائی شرمندہ ہوں میں تجھ سے مجھ سے نہیں نجل تو مجھ میں رہی کدورت تجھ میں رہی صفائی تو نے کرم کیا ہے میرے ستم کے بدلے دیکھی نہ میں نے تجھ سے اک ذرہ بے وفائی تولعل بے بہا ہے انمول ہے تو موتی ہے نقش میرے دل پر بس تیری پارسائی میں نے نہ قدر تیری پہچانی ایک ذرہ ہیرے کو میں سمجھا افسوس ایک پائی خاطر سے تو نے میری کنبہ کو اپنے چھوڑا جنگل میں ساتھ میرے پیارے وطن سے آئی تھی ناز کی پلی تو اور میں غریب گھر کا تو نے ہر اک مصیبت گھر میں مرے اُٹھائی محنت کا تیری ثمرہ اللہ تجھ کو بخشے چولھے میں سر کھپایا بچوں پہ جاں کھپائی دکھ سکھ میں ساتھ میرا تو نے کبھی نہ چھوڑا خود ہوگئی مقابل جب غم کی فوج آئی دنیا کے رنج وغم کو ہنس ہنس کے تو نے کاٹا اللہ رے تیری ہمت ہل بے تیری سمائی بچوں کو تو سلاتی اور آپ جاگتی تھی سو بار موت گو میں تو رات کو نہائی بچوں کے پالنے میں لاکھوں اُٹھائے صدمے جب تک یہ سلسلہ تھا راحت نہ تو نے پائی ہوتا تھا ایک پیدا اور دوسرا گذرتا تھی صابرہ تو ایسی ہرگز نہ بلبلائی صدمہ کو اپنے دل کے لاتی نہ تو زباں پر جہال کی طرح سے دیتی نہ تھی دُہائی تنگی میں عمر کاٹی بچوں کو خوب پالا شکوہ نہ سختیوں کالب پر کبھی تو لائی دُکھ درد اپنے دل کا تو نے کیا نہ افشا غیروں سے تو چھپاتی ہوتی اگر لڑائی جو میں نے تجھ کو بخشا تو نے لیا خوشی سے مانگی نہ تو نے مجھ سے ساری کبھی کمائی دھوکہ دیا نہ ہرگز بولی نہ جھوٹ گا ہے مجھ سے نہ بات کوئی تو نے کبھی چھپائی تھی جتنی تجھ میں طاقت کی تو نے میری خدمت خود کھایا روکھا سوکھا نعمت مجھے کھلائی