حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 51 of 104

حیاتِ ناصر — Page 51

51 حیات ناصر دل میں خیال نیکی آتا ہے جب ہمارے تو اس کا ہے محرک دیتانداء تو ہی ہے بدیوں سے پھیر لاتا رہ ہم کو ہے دکھاتا ہم کرتے ہیں بُرا ہی کرتا بھلا تو ہی ہے ا ہم ہیں فقیر تیرے تو ہے غنی ہمارا ہم لیتے ہیں جو قرضہ کرتا ادا تو ہی ہے اولاد و مال تو نے ہم کو دیا ہے بے شک احسان ہم پہ کرتا صبح و مسا تو ہی ہے۔تو ہم کو پالتا ہے آفات ٹالتا ہے اور ہم سے دور کرتا ہر اک بلا تو ہی ہے خدمات کا ہماری دیتا صلاء تو ہی ہے ہے ضائع محنتیں ہماری کرتا نہیں پھنستے ہیں ہم الم میں پڑتے ہیں قید غم میں آخر مصیبتوں سے کرتا رہاء تو ہی ہے تجھ کو فنا نہیں ہے ہم کو بقاء نہیں ہے دیتا ہے زندگی تو کرتا فناء تو ہی ہے چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں بچے ہوں یا کہ بڑھے جب چاہتا ہے ہم پر لاتا قضاء تو ہی ہے تبدیل کر رہا ہے جنگل کو بستیوں سے شہروں کے شہر دم میں کرتا صفاء تو ہی ہے کر قوم پر ہماری الطاف یا الہی تیرے ہی ہیں یہ بندے ان کا خدا تو ہی ہے امت رسول کی ہے مہدی کا ہے یہ فرقہ کشتی میں تیری بیٹھے اب ناخدا تو ہی ہے ہم کو نہ غرق کرنا غیروں سے فرق کرنا سب ہیں ہمارے دشمن اک آشنا تو ہی ہے ☆☆☆