حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 50 of 104

حیاتِ ناصر — Page 50

حیات ناصر 50۔تیرے سوا نہیں ہے معبود کوئی ہرگز قرباں جس پہ دل ہیں وہ دلر باء تو ہی ہے ماں باپ بھائی بہنیں بیوی ہو یا کہ بچے ہیں چار دن کے ساتھی لیکن سدا تو ہی ہے جو تیرے پاس آیا اُس نے ہی لطف پایا کل بیوفا ہے دنیا اک باوفاء تو ہی ہے جس نے نہ تجھ کو دیکھا ہے عقل کا وہ اندھا آنکھوں کا نور تو ہے دل کا دیا تو ہی ہے جس خوش ادا پہ ہوتے ہیں قربان سب رنگیلے میں تیرے منہ کے صدقے وہ خوش ادا تو ہی ہے ڈر ہے تو تیرا ڈر ہے امید ہے تو تجھ سے ہے جائے خوف تو ہی جائے رجاء تو ہی ہے جس دل کا تیرے غم میں ہوتا ہے خون پیارے انجام کار اس کا بس خون بہاء تو ہی ہے تیرے فقط کرم سے پاتا ہے کوئی تجھ سے ہر چیز کی ہے قیمت اک بے بہاء تو ہی ہے سب سے عظیم تو ہے اور سب سے تو ہے اعلیٰ ہر شے کی انتہاء ہے بے انتہاء تو ہی ہے لوگوں نے جو ہے سمجھا وہ تو نہیں ہے ہرگز ہم مانتے ہیں تجھ کو بے شک خدا تو ہی ہے مومن ہیں تیرے شیدا اس میں نہیں ذرا شک کافر کے بھی تو دل کا بس مدعا تو ہی ہے ہے قرب تیرا دولت دوری تیری فقیری دل کو غنا ہو جس سے وہ کیمیا تو ہی ہے شاہوں کا شاہ تو ہی ہے سب کی پناہ تو ہے ہے شاہ تو بناتا کرتا گدا تو ہی ہے تو ہم کو ہے کھلاتا اور تو ہی ہے پلاتا بیمار ہم جو ہوویں دیتا شفاء تو ہی ہے دکھ درد سے رہائی دیتا ہے تو ہی ہم کو اور دور ہم سے کرتا ہر اک اذا تو ہی ہے ہے ابر تو ہی لاتا کرتا ہے تو ہی بارش اور بھیجتا جہاں میں ٹھنڈی ہوا تو ہی ہے سامان زندگی کا تو نے دیا ہے ہم کو کپڑے تو ہی پہناتا دیتا غذا تو ہی ہے تو پھول ہے کھلاتا اور پھل بھی ہے لگاتا میوے ہمیں کھلاتا یہ بامزاء تو ہی ہے پر عیب کل بشر ہیں بے عیب ذات تیری سب پر خطا ہیں بندے اک بے خطا تو ہی ہے ناصر کی کر مدد تو تیرا ہے نام ناصر منظور عاجزوں کی کرتا دعاء تو ہی ہے جب سرکشی سے بندے ہوتے ہیں تجھ سے باغی ان کی سزا کی خاطر لاتا وباء تو ہی ہے رکھنے کے جو ہیں قابل رکھتا ہے ان کو تو بھی جو ہیں فنا کے لائق کرتا فتا تو ہی ہے توبہ قبول کرنا تیرا ہی کام ہے بس تو ہے قریب ہم سے سنتا دعا تو ہی ہے