حیاتِ ناصر — Page 10
حیات ناصر 10 عاجز انبالہ میں تھا۔اس کے عقیقہ پر انبالہ سے چلا تو بٹالہ میں آکر دیکھا کہ سخت طوفان باراں بپا ہے اور راہ قادیان نا قابل گذر بن گیا ہے تاہم میں نے ایک خچر کرایہ کی اور اسی طوفان میں روانہ ہوکر شام کے قریب قادیان کے قریب پہنچا یہاں تک کہ اس قدر قریب ہو گیا کہ قادیان نظر آنے لگا مگر رستہ میں پانی اس قدر تھا کہ راہ نا قابل گذر تھا اندیشہ تھا کہ کسی گڑھے میں گر کر ڈوب نہ جاؤں لہذا بنا چاری واپس ہو کر ایک گاؤں میں رات کو زمین پر پڑا رہا۔صبح کو بھی کوئی صورت قادیان پہنچنے کی نظر نہ آئی کیونکہ بارش بند نہ ہوئی تھی لہذا واپس چلا گیا۔یہ قصہ بھی عجیب تھا اس لئے تحریر کر دیا۔ایک مرتبہ میں انبالہ میں تھا کہ حضرت صاحب کا تار گیا کہ وہ جان بہ لب ہیں فوراً آؤ۔فوراً میں قادیان میں پہنچا لیکن آکر دیکھا تو آرام ہو چکا اور حضرت صاحب اچھی حالت میں تھے ان دنوں میں جب میں آیا کرتا تھا تو حضرت صاحب مجھے رخصت کرنے بھی جایا کرتے تھے۔ان دنوں میں زیادہ مہمان نہیں آتے جاتے تھے۔پٹیالہ سے پھر لدھیانہ میں میری تبدیلی ہوگئی اور وہاں میں مقرر پٹیالہ میں گیا۔حضرت مسیح موعود کے سفر دہلی و پٹیالہ ولدھیانہ پر ایک نظر اس وقت حضرت صاحب دلی میں تشریف لے گئے اور دلی کے مولویوں کو اپنے مامور ہونے اور وفات مسیح کے معاملہ میں تبلیغ فرمائی خصوصاً مولوی نذیر حسین صاحب سرگروہ اہلحدیث کو اس مسئلہ کے تصفیہ کے لئے بلا یا مگر وہ سادہ مزاج تھے شاگردوں کو ڈر ہوا کہ کہیں حق ان کے منہ سے نہ نکل جائے اس لئے ان کو مرزا صاحب کے روبرو نہ ہونے دیا اور چالاکیوں سے کام لیتے رہے اور چاہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ذلیل کر کے دتی سے نکال دیں لیکن خود ہی ذلیل ہوئے اور ان کی سخت پردہ دری ہوئی۔بہت مشکل سے مولوی نذیرحسین صاحب جامع مسجد میں پانچ ہزار آدمیوں کے مجمع میں تشریف لائے جہاں مرزا صاحب مع چند رفقاء کے درمیانی دروازہ میں شیر کی طرح اللہ تعالیٰ پر توکل کئے بیٹھے ہوئے تھے۔مولوی صاحب با وجود پانچ ہزار مددگاروں اور اس قدر کثیر یاروں کے بھی مرزا صاحب کے مقابل میں نہیں آئے بلکہ مسجد کے ایک گوشہ میں چھپے بیٹھے رہے اور ٹال مٹول کو سپر بنایا اور گفتگو تک ان کے شاگردوں نے نوبت نہ آنے دی۔انجام کارسرکاری افسروں نے مجمع کو مباحثہ سے مایوس ہو کر متفرق کر دیا اور حضرت مرزا صاحب کو بحفاظت ان کے یرہ پر پہنچادیا۔اس عرصہ میں دلی کے لوگوں نے اپنی شرافت کا خوب نمونہ دکھایا اور کوئی بھی بھلا مانس وہاں نظر نہ آیا۔وہ شہر جو علماء، فضلاء اور حکماء کا منبع اور مرکز