حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 97 of 923

حیاتِ خالد — Page 97

حیات خالد 103 مناظرات کے میدان میں الفاظ ادا کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔حضرت مولانا صاحب کے فن خطابت کے بارے میں ہم آگے بھی ذکر کریں گے لیکن اس مرحلہ پر ہفتہ وار لاہور کے ایڈیٹر ماہر قلم کا راور صحافی جناب ثاقب زیروی کی تحریر کا صرف ایک جملہ بیان کئے دیتے ہیں۔بلاشبہ اس میں جناب ثاقب نے کوزے میں دریا بند کر دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- ان کا خطاب شروع ہوتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے گراموفون پر کوئی ریکارڈ شدہ تقریر لگا دی گئی ہے اور ۴۵ منٹ یا ایک گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد ریکارڈ پر سے سوئی ہٹائی گئی ہے"۔(ہفت روزہ لاہور 4 جون ۱۹۷۷ء صفحریم ) حضرت مولانا صاحب نے اپنے قلم سے حیاة چند ابتدائی مناظر ۱۹۲۴۷ء تا۱۹۲۶ء ابي العطاء، میری زندگی ، چند منتشر یادیں" کے عنوان سے الفرقان اپریل ۱۹۶۹ ، صفحہ ۳۹ تا ۴۷ میں اپنے ابتدائی مناظرات کا دلچسپ حال خود ہی تحریر فرمایا ہے۔حضرت مولانا فرماتے ہیں کہ یہ واقعات ۱۹۲۴ء سے ۱۹۲۶ ء تک کے دور کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔حضرت مولا نا تحریر فرماتے ہیں :- انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر سے بیسویں آریہ سماجی پنڈتوں سے مناظرات صدی کے نصف اول تک عیسائی پادریوں کے علاوہ آریہ سماج کی طرف سے بھی اسلام پر شدید حملے ہوتے تھے۔پنڈت دیانند جی نے ستیارتھ پر کاش" ایسی کتاب لکھ کر آریوں کو اسلام سے سخت متنفر کر دیا اور ان میں اسلام کے خلاف بغض بھر دیا۔آریہ سماج کے ہر جلسے میں اسلام پر جارحانہ حملے ہوتے تھے جس سے مناظرات کا طویل سلسلہ شروع ہو جاتا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے دفاع کیلئے مامور فرمایا تھا آپ نے آریہ سماج کے حملوں کا بھی پورا پورا جواب دیا اور اسلام کی فضیلت کو واضح دلائل سے ثابت فرمایا۔آپ کا یہ شاندار علم کلام ادیان باطلہ کے خلاف ہمیشہ اہل انصاف سے خراج تحسین حاصل کرتا رہے گا۔آپ نے آریہ سماج کے جملہ اعتراضات کا بودہ بین ظاہر کر کے ان کے عقائد واصول پر وہ ٹھوس تنقید فرمائی کہ آریہ لوگ قیامت تک اس کے جواب سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔جماعت احمدیہ کے علماء اور مناظرین نے اسی درخشندہ علم کلام کے ذریعہ آریہ سماج کو ہر موقع پر شکست دی ہے۔یہ سلسلہ ایک لمبے عرصہ تک جاری رہا۔