حیاتِ خالد — Page 98
حیات خالد 104 مناظرات کے میدان میں زمانہ طالب علمی میں میں نے آریہ پنڈتوں اور احمدی علماء کے متعدد مناظرات سنے ، آریوں کی کتابیں پڑھیں ، ستیارتھ پرکاش کا بالاستیعاب مطالعہ کیا آریوں کے اخبارات آریہ گزٹ ، آریہ مسافر اور پرکاش وغیرہ کا میں شروع سے مطالعہ کرتا رہا ہوں۔زمانہ طالب علمی میں بھی مجھے متعدد مقامات پر آریوں سے مناظرات کرنے کا اتفاق ہوا۔لیکچر تو اس بارے میں بکثرت ہوئے۔۱۹۲۴ء میں میں نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔کچھ مہینے خدمت دین کے بعد مبلغین کلاس میں داخل ہوا اور یکم مئی ۱۹۲۷ء کو مبلغین کلاس سے فارغ ہو کر باقاعدہ مبلغ کے طور پر مقرر ہوا۔اس کے بعد تو متحدہ ہندوستان کے طول و عرض میں تقاریر اور مناظرات کا تانتا بندھ گیا۔چند سال تک یہ سلسلہ بڑے زوروں پر رہا جن میں سے اکثر کا ذکر سلسلہ کے اخبارات میں موجود ہے اور بعض ایسے بھی ہیں جن کی رپورٹ شائع نہ ہوئی اور ان کا کوئی تذکرہ اخبار میں نہیں ہوا۔میں ذیل میں آریہ سماجیوں سے چند بڑے بڑے مناظرات اور اہم گفتگوؤں کا ذکر کرتا ہوں۔دینا نگر ضلع گورداسپور کا مشہور ریلوے سٹیشن ہے۔آموں کے باغات کی وجہ سے مناظرہ دینا نگر اسے خاص شہرت حاصل تھی وہاں پر ایک مضبوط آریہ سماج تھی جو ہر سال جلسہ کرتی اور مسلمانوں کو مناظرہ کی دعوت دیتی۔عام طور پر ان کے جلسے اور مناظرے آموں کے موسم میں ہوا کرتے تھے اس وجہ سے بھی مشتاقین کی بڑی تعداد پہنچ جایا کرتی تھی مگر کبھی کبھی وہ لوگ دوسرے اوقات میں بھی جب ان کو کوئی بڑا پنڈت آ جاتا جلسہ کر لیتے اور مناظرہ کا چیلنج دے دیا کرتے تھے۔۱۹۲۴ء کے آخر یا ۱۹۲۵ء کے شروع کے ایام تھے اطلاع ملی کہ دینا نگر میں آریوں کا جلسہ ہورہا ہے اور انہوں نے مسلمانوں کو دعوت مناظرہ بھی دی ہے۔مرکز سے ڈاکٹر فضل کریم صاحب مرحوم کو وہاں بھیجوایا گیا وہ ان کا اپنا علاقہ تھا تا کہ مناسب انتظام کریں اور اگر ضرورت ہوئی تو مرکز سے مبلغین بھی بھجوائے جائیں گے۔ڈاکٹر صاحب مرحوم بڑے غیور احمدی تھے ان کا اس علاقہ میں اثر و نفوذ بھی تھا۔وہ جب دینا نگر گئے تو مسلمانوں نے ان سے کہا کہ آریوں نے مناظرہ کا چیلنج سب مسلمانوں کو دے رکھا ہے ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی جماعت کے مناظر مناظرہ کریں۔ڈاکٹر صاحب اور کچھ اور دوست منتری آریہ سماج کے پاس گئے۔آریوں کے ہاں پنڈت دھرم بھکشو لکھنوی آئے ہوئے تھے یہ بہت طرار اور منہ زور پنڈت تھے۔لکھنو میں ایک مدرسہ سے انہوں نے کچھ عربی بھی پڑھ لی تھی۔منتری آریہ سماج نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ دو موضوع (۱) اسلامی جنت (۲) تناسخ ، مقرر کر لئے اور مناظرہ