حیاتِ خالد — Page 914
حیات خالد 896 متفرقات تفہیمات ربانیہ حضرت مولانا کی کتاب تفہیمات ربانیہ کے بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد کا ایک حصہ پہلے درج ہو چکا ہے اب یہ ارشاد مکمل صورت میں درج کیا جاتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ سیرت خاتم النبیین اور تمہیمات ربانیہ پر اکٹھا تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو کتا ہیں نہایت اعلیٰ پایہ کی تصنیف ہو چکی ہیں ان کے مسودات کے بعض حصے میرے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔۔دوسری کتاب ایک مخالف سلسلہ کی کتاب عشرہ کاملہ کا جواب ہے جو مولوی اللہ دتا صاحب کو تبلیغ کے کام سے فارغ کر کے لکھائی گئی ہے۔اس کا نام میں نے ہی تفہیمات ربانیہ رکھا ہے اس کا ایک حصہ میں نے پڑھا ہے جو بہت اچھا تھا۔اس کتاب کیلئے کئی سال سے مطالبہ ہو رہا تھا۔کئی دوستوں نے بتایا کہ عشرہ کاملہ میں ایسا مواد موجود ہے کہ جس کا جواب ضروری ہے۔اب خدا کے فضل سے اس کے جواب میں اعلیٰ لٹریچر تیار ہوا ہے دوستوں کو اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور اس کی اشاعت کرنی چاہئے۔نیابت کا فرض محترم مولوی عبد الرحمن صاحب انور مرحوم نے تحریر فرمایا ہے :- انوار العلوم جلد ۱ صفحه ۵۳۶٬۵۳۵) عرصہ تقریبا ڈیڑھ سال کا ہوا کہ میرے نام ایک لفافہ بند حضرت خلیلة امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی کی طرف سے موصول ہوا کہ خاکسار اس بارہ میں بحضور رپورٹ کرے۔اس میں ایک چٹھی مکرم صوفی بشارت الرحمن صاحب صدر مجلس کار پرداز بہشتی مقبرہ کی تھی جس سے معلوم ہوا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے لمبی بیماری کی وجہ سے دفتر بہشتی مقبرہ کو یہ ہدایت دی تھی کہ اپنی رپورٹ برائے دفن موصی کے حسابات کرنے کے بعد آخری منظوری کے لئے اب مکرم شمس صاحب کو پیش کر دیا کریں۔پھر ان کی وفات کے بعد حضور نے آخری منظوری کے لئے مکرم مولوی ابو العطاء صاحب کے پاس پیش