حیاتِ خالد — Page 899
حیات خالد 880 گلدستۂ سیرت فرمایا کہ مزید کوئی غلطی سامنے نہ آئی۔البتہ زبانی مزید بعض ہدایات دیں۔جب حضرت مصلح موعود کی اجازت سے ہم باہر نکلے تو کمرہ سے باہر آتے ہی حضرت مولانا صاحب نے مجھ پر سخت ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوئے کہا۔کہ تم نے یہ کیسی حرکت کی ؟ تمہاری عقل کو کیا ہوا تھا ؟ کیسی نادانی کا مظاہرہ کیا ہے خاکسار نے بڑی پریشانی سے پو چھا کہ مجھے میری غلطی کا علم تو ہو کہ کیا غلطی مجھ سے سرزد ہوئی ہے۔؟ اس پہ میرے بزرگ ،شفیق اور تقویٰ کے پیکر وجود نے فرمایا کہ آئندہ کے لئے یاد رکھو کہ خلیفہ وقت خدا کا نمائندہ اور مقرب وجود ہوتا ہے۔جتنی بات یہ وجود پو مجھے اتنی بات ہی ادب سے عرض کرنی چاہیے۔زائد بات منہ سے نہیں نکلنی چاہیے۔تمہارا اتنا جواب درست تھا کہ یہ حصہ مضمون میں نے نہیں لکھا۔لیکن جو زائد بات کہی کہ میرا تحریر کردہ فلاں صفحہ سے شروع ہوتا ہے، یہ تمہاری نادانی تھی۔اگر اس حصہ میں کوئی غلطی سامنے آجاتی تو تمہاری تو شامت آ جانی تھی۔اسلئے خلیفہ وقت کے ادب کا یہ تقاضا ہے کہ جتنی بات دریافت کی جائے ، اسی حد تک بات کی جائے میرے بزرگ محسن شفیق استاد کا کیسا احسان ہے۔کہ اتنی مفید ، بابرکت اور زندگی کا سلیقہ سکھانے والی نصیحت میں ایک لمحہ تاخیر نہیں فرمائی اور زندگی بھر کے لئے ایک روشن چراغ تھمادیا۔فجزاهم الله تعالی۔انہی ایام میں جبکہ انکوائری کورٹ کے تعلق میں ابھی لاہور میں قیام تھا۔ایک روز محترم مولانا صاحب نے خاکسار کو کورٹ میں بھجوایا کہ فلاں آدمی کو پیغام دے آؤ اور جلدی واپس آنا۔خاکسار نے کورٹ پہنچ کر متعلقہ شخص کو پیغام دیا۔چونکہ اس وقت کورٹ میں محترم ملک عبدالرحمان خادم صاحب ایڈوکیٹ جماعتی موقف پیش کر رہے اور جرح کا عمل جاری تھا۔اس بہت دلچسپ فضا میں خاکسار غیر ارادی طور پر کچھ دیر رک گیا اور کاروائی سنتے ہوئے وقت کا خیال تک نہ رہا۔جب واپس آکر حضرت مولانا صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر بتایا کہ پیغام دے آیا ہوں تو فرمانے لگے وقت کیوں زیادہ لگا ؟ خاکسار نے معذرت کے ساتھ حقیقت بتادی کہ کاروائی سننے لگ گیا تھا۔فرمانے لگے کہ ابھی اپنا بوریا بستر باندھو اور واپس ربوہ چلے جاؤ۔یہ فرماتے ہوئے ناراضگی کا پہلو غالب اور نمایاں تھا۔خاکسار نے دلی ندامت اور معذرت پیش کر کے معافی کی التجا کی لیکن آپ نے فرمایا معذرت کی ضروت نہیں آپ بلا تاخیر واپس ربوہ چلے جائیں۔اس پر خاکسار نے اپنا سامان بستر وغیرہ سمیٹنا شروع کیا تو میرے ایک اور بزرگ شفیق استاد حضرت ملک سیف الرحمان صاحب نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تیاری ہورہی ہے۔خاکسار نے ساری تفصیل عرض کر دی تو فرمانے لگے کہ رہنے دو تیاری نہ کرو۔