حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 898 of 923

حیاتِ خالد — Page 898

حیات خالد 879 گلدسته سیرت سبق ( تفسیر القرآن ) پڑھنا ہے کیا اس کا پیشگی مطالعہ کر کے آئے ہیں۔جب خاکسار کی باری آئی تو میں نے عرض کیا کہ مطالعہ نہیں کر سکا ( اور دل میں مجھے اطمینان تھا کہ مطالعہ نہ کر سکنے کا میرے پاس معقول جواز ہے۔) حضرت مولانا نے مطالعہ نہ کر سکنے کی وجہ دریافت کی تو خاکسار نے اطمینان سے عرض کر دیا کہ رات گئے تک مضمون نقل کرتا رہا اسلئے مطالعہ نہ کر سکا۔حضرت مولانا نے فرما یارات کس وقت تک مضمون لکھتے رہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ رات دو بجے مضمون مکمل ہوا تھا۔فرمایا اس کے بعد کیا کرتے رہے ؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اسکے بعد سو گیا تھا۔فرمایا ” جب کام ابھی باقی تھا۔تو سو کیوں گئے ؟ اس کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ندامت سے سر جھکا لیا اور اپنی غلطی اور کوتاہی کا اقرار کیا۔میرے شفیق اور محسن استاد کی یہ نصیحت ہمیشہ کے لئے دل و دماغ میں نقش ہوگئی۔کہ ” کام باقی تھا۔تو سو کیوں گئے آج تک یہ نصیحت ہر مرحلہ پر پیش نظر رہتی ہے۔اس سے فائدہ اٹھاتا ہوں اور اپنے محسن کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔فجزاهم الله تعالی۔۱۹۵۳ء کے فسادات کے بعد جب ۱۹۵۴ء میں انکوائری کورٹ لاہور میں سارا قضیہ پیش تھا۔تو حضرت مصلح موعود کا بھی کورٹ میں بیان متوقع تھا۔حضرت مصلح موعود کا عارضی طور پر قیام رتن باغ لاہور میں تھا اور بیان کی تیاری کے سلسلہ میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور حضرت ملک سیف الرحمان صاحب رتن باغ کے سامنے جو دھامل بلڈنگ میں مقیم تھے۔بیان کی تیاری کے تعلق میں جامعہ احمدیہ کے طالبعلم جن میں خاکسار بھی شامل تھا، اپنے بزرگ اساتذہ کے ساتھ خدمت کے لئے حاضر تھے۔بیان خوش خط لکھ کر حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہو کر پیش کیا جاتا۔ایک روز حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کے ہمراہ خاکسار کو سعادت نصیب ہوئی کہ صاف تحریر کردہ مواد حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے حاضر خدمت ہوا۔اس روز حضرت مصلح موعودؓ نے تحریر کردہ مواد اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ میں خود اس کا مطالعہ کرتا ہوں۔مسودہ کا مواد چونکہ خاکسار کے علاوہ میرے دوسرے ساتھی کا بھی تحریر کردہ تھا اس لئے سخت فکر تھی کہ اگر کوئی غلطی سامنے آئی تو جواب طلبی موقعہ پر ہی ہو جائے گی۔دوران مطالعہ حضرت مصلح موعود نے ایک موقعہ پر فرمایا۔یہ غلط لکھا ہے اور ساتھ ہی خاکسار کی طرف دیکھا اور فرمایا یہ غلط کس نے لکھا ہے؟“ خاکسار نے عرض کیا کہ حضور یہ حصہ میرے ایک ساتھی کا تحریر کردہ ہے۔اور میری تحریر فلاں صفحہ سے شروع ہوتی ہے۔اس پر حضور نے مطالعہ تو جاری رکھا لیکن مزید کوئی تبصرہ نہ فرمایا۔خدا تعالیٰ نے فضل ,,