حیاتِ خالد — Page 875
حیات خالد 856 گلدستۂ سیرت بے تکلفی کا رنگ بھی تھا۔حضرت مولانا نے فرمایا کہ آپ اچھی نظمیں کہتے ہیں خصوصاً حضرت خاتم الانبیاء کے بارہ میں دلگر از نعتیہ نظم آپ کی بخشش کیلئے شفاعت کا کام کرے گی۔میرے والد صاحب نے کہا کہ آپ اُذْكُرُوا مَوْتَاكُمُ بِالْخَيْرِ کے تحت الفضل میں جو مضمون لکھتے ہیں ان کا جواب نہیں۔ایک دن مزاح کے دوران دونوں بزرگوں کے درمیان طے ہوا کہ اگر میرے والد محترم پہلے فوت ہو گئے تو حضرت مولانا ان کے بارہ میں الفرقان میں مضمون لکھیں گے اور اگر استاذی المکرم حضرت مولانا پہلے فوت ہوئے تو والد محترم ان کے بارہ میں نظم لکھیں گئے۔تقدیر خداوندی کے تحت حضرت مولانا پہلے فوت ہو گئے تو اس پر والد محترم نے ایک نظم لکھی۔جس کا ایک شعر یہ ہے۔0 چھوڑ کر دنیا کو خالد جا بسا ہے خلد میں ب چلائے حجت و برہان کی شمشیر کون عظم اس کتاب میں شامل ہے۔مکرم خالد ہدایت بھٹی صاحب ایم۔اے لاہور لکھتے ہیں :- حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب عالم با عمل تھے نہایت مؤثر انداز بات چیت کرنے کا تھا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں تقریر کرنے کا ایک خاص ملکہ عطا کیا تھا۔نہایت دلآویز شخصیت کے مالک تھے۔تجر علمی اسلوب بیان اور شخصیت کی وجہ سے سامعین پر چھا ہی نہیں جاتے تھے بلکہ تقریر کا ایک ایک لفظ کانوں کے راستے دل میں اُترتا جاتا تھا۔گھر داری کے معاملات میں بھی نہایت حلیم، ملنسار اور عاجزی وانکساری کا پیکر تھے۔حد درجہ کے مہمان نواز تھے۔یہ سن ۱۹۴۸ ء یا ۱۹۴۹ء کا ذکر ہے کہ میں اور میرے ماموں زاد پروفیسر مبارک احمد انصاری ربوہ میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں شامل تھے۔یہ اجتماع جہاں اب بیت اقصیٰ ہے اس کے ساتھ کی پہاڑیوں کے دامن میں منعقد ہوا تھا۔ابھی ربوہ کی آبادی اِکا دُکا مکان تھے۔ہم دونوں ایک صبح پا پیادہ تقریباً دو اڑھائی میل کا فاصلہ طے کر کے احمد نگر پہنچے۔حضرت مولانا کی رہائش ان دنوں احمد مگر میں تھی۔خالہ جی نے بتایا کہ مولا نا شکار کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ہم بیٹھ کے انتظار کرنے لگے تھوڑی دیر کے بعد مولانا تشریف لائے۔سرسے نگے، شلوار کا ایک پائنچہ لنگا ہوا۔سر منہ، کپڑے مٹی سے آئے ہوئے ایک ہاتھ میں بندوق ایک میں تھیلہ۔آ کر تھیلے سے دو فاختائیں ذبح کی ہوئی نکال کر خالہ جی کو دیں۔جنہوں نے صاف کر کے اسی وقت ہنڈیا چڑھا دی۔جب سالن تیار ہوا تو دیسی گھی سے