حیاتِ خالد — Page 865
حیات خالد 846 گلدسته سیرت تلاوت تقریر نظم غرض سب مقابلے ہوتے بڑے ابا جان پیسے دیتے کہ ان کے انعام خرید کر پیک کر کے رکھو اور پھر مقابلوں کے بعد انعامات تقسیم ہوتے غرض گھر میں خوب رونق رہا کرتی لیکن میری صحت گرتی جارہی تھی۔بڑے ابا جان کئی ڈاکٹروں کے پاس لے کر گئے اور کئی ڈاکٹر گھر بھی آئے لیکن بیماری سمجھ نہیں آئی۔ایک شام کا ذکر ہے۔میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں آواز آئی ” مرزا طاہر احمد سے علاج کرواؤ۔بڑے ابا جان کہنے لگے کہ میں اتنے عرصہ سے تمہارے لئے دعا کر رہا تھا خدا نے تمہیں خوشخبری دی ہے۔مرزا طاہر احمد صاحب حضور کے چھوٹے بھائی ہیں اور بہت ماہر ہومیو پیتھ ہیں اور میرے بہت عزیز دوست ہیں۔کل ہی ان سے گھر آنے کی درخواست کرتا ہوں۔میری امی نے کہا کہ ابا جان واسع کو ان کے پاس لے جائیں تو بڑے ابا جان کہنے لگے کہ نہیں نہیں وہ گھر تشریف لے آئیں گے۔اگلے دن بڑے ابا جان نے حضرت مرزا طاہر احمد صاحب سے گھر آنے کی درخواست کی۔آپ تشریف لے آئے اور مجھے دیکھتے ہی کہا کہ کچھ بھی نہیں ہے اپنے ابو جان کیلئے اداس ہے اور کچھ خون کی کمی ہے اچھی خوراک کھائے۔چند ہو میو پیتھک ادویات تجویز فرمائیں اور میں چند دنوں میں صحت یاب ہوگئی۔یتعلق تھا ہما را خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ سے جو حضرت بڑے ابا جان کے مبارک وجود کے ذریعے پیدا ہوا۔میں نے یہ واقعہ حضور کی خدمت میں لکھ کر بڑے ابا جان کی بلندی درجات کیلئے دعا کی درخواست کی تو حضور نے از راہ شفقت میرے خط کے اوپر ہی اپنے دست مبارک سے یہ تحریر فرمایا۔آپ کے اخلاص سے بھرے جذبات اگر مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم کی روح تک پہنچیں تو انہیں کس قدر خوشی پہنچے گی۔اکٹر سکول جاتے ہوئے امی سے پیسے لیتے ہوئے ضد کرنا پڑتی۔ایک روز بڑے ابا جان نے سن لیا تو کہنے لگے آؤ بچڑا کتنے پیسے چاہئیں مجھ سے لے لو اپنی امی کو تنگ نہ کرو۔پھر تو میری عیش ہو گئی جس روز ضرورت ہوتی سیدھی بڑے ابا جان کے کمرے میں جاتے اور مزے سے پیسے لے کر سکول روانہ ہو جاتے۔مجھے ابو جان کے لائبیریا کے لئے روانہ ہونے کے حالات اچھی طرح یاد ہیں اور میں آج سوچتی ہوں کہ کس قدر بہادر اور عاشق دین باپ تھا کہ بیٹے کی جدائی پر ہماری دلجوئی کر رہا تھا جس کے پہلے ہی دو بیٹے ملک سے باہر خدمت دین میں مصروف تھے اور اب تیسرے بیٹے کی جدائی برداشت کرنا تھی۔نہ ہمارے ابو جانتے تھے اور نہ ہم جانتے تھے کہ اب ابو جان اپنے عظیم باپ کو دوبارہ بھی نہیں دیکھ سکیں گے۔جب ابو جان کا جہاز روانگی کے لئے چل پڑا تو میں سخت اداس تھی لیکن بڑے ابا جان نے مجھے اپنے