حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 833 of 923

حیاتِ خالد — Page 833

حیات خالد 822 گلدستۂ سیرت اولاد کے ساتھ خط و کتابت آپ باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔آپ نے سب بچوں کے پتہ جات کی مہریں بنوا کر رکھی ہوئی تھیں اور خط لکھ کر لفافہ پر پتہ کی مہر ثبت کر دیا کرتے تھے آپ کا خط خاندان کی پوری خبروں پر محیط ہوتا تھا۔ایک دفعہ آپ کراچی آئے تو آپ نے نماز قصر کرنے کی بجائے پوری نماز ادا کی۔آپ دو تین روز کیلئے ہی آئے تھے میں نے پوچھا کہ آج آپ نے نماز قصر نہیں کی۔فرمانے لگے مجھے دراصل یہ خیال آیا کہ بیٹے کا گھر بھی تو اپنا ہی گھر ہوتا ہے۔پھر مسافری کیسی؟ اس لئے پوری نماز ادا کی جائے۔تاہم یہ آپ کا معمول نہیں تھا۔اکثر نماز سفر میں قصر ہی پڑھا کرتے تھے۔محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ بیگم محترم ڈاکٹر عبدالسمیع صاحب مرحوم اولاد سے حسن سلوک کے بارے میں الھتی ہیں :۔آپ کا مشفقانہ سلوک مجھے ساری عمر یا در ہے گا۔ایک دفعہ رات کے وقت میری آنکھ میں شدید قسم کا درد ہو گیا۔بڑی تکلیف محسوس ہورہی تھی۔آپ کو پتہ لگا تو آپ تقریبا رات بھر جاگ کر پٹی وغیرہ کرتے رہے۔جب مجھے آرام آیا تو آپ نے بھی آرام کیا۔یہ واقعہ آپ کے پیار اور ہمدردی کا مرقع ہے۔بچوں سے آپ کا سلوک بے حد مشفقانہ تھا۔ہم بہن بھائیوں میں سے ہر ایک کو یہی محسوس ہوتا تھا کہ آپ کو اسی سے زیادہ محبت ہے۔سب بہن بھائیوں سے یکساں محبت کا سلوک کیا۔کبھی لڑکی اور لڑکے میں فرق نہیں کیا جیسا کہ بعض گھروں میں ہوتا ہے۔بچی کی پیدائش پر بھی خوش رہے اور لڑکے کی پیدائش پر بھی یکساں خوشی کا اظہار کیا۔ایک دفعہ آپ نے مجھ سے کہا کہ ( یہ آپا امتہ اللہ خورشید کی وفات کے بعد کی بات ہے ) اب تم میری بڑی بیٹی ہو۔اس لئے میں سب سے پہلے تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔اس بات سے مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ماں باپ کی شفقت کا تو کوئی پیمانہ نہیں ہوا کرتا۔اسی طرح ان کی یاد بھی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ان کے درجات بلند ہونے کے لئے دعا کرنا بھی ضروری ہے۔خدا ہمارے ابا جان کے درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔آمین حضرت مولانا کے برادر اصغر محترم مولوی عنایت اللہ صاحب جالندھری مرحوم تحریر فرماتے ہیں :- ہمارے والد صاحب ہمارے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔صرف بھائی جان حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کا معمولی گزارہ الاؤنس تھا جس میں ہم سب بہن بھائی اور بھائی جان کی اولا دگزر اوقات کرتے تھے۔مگر بھائی جان نے آج تک ہم پر یہ ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ ہم جنگ ہیں۔کبھی