حیاتِ خالد — Page 834
حیات خالد 823 گلدسته سیرت ہماری فرمائش کو رد نہ کیا بلکہ ہم سب بہن بھائیوں کی شادیاں کیں پڑھایا اور جس ناز و نعم سے پڑھایا کوئی بھی نہیں پڑھا سکتا تھا۔مجھے تو آج تک یاد ہے بلکہ میں یہ کہوں گا کہ میں کبھی نہیں بھول سکتا کہ وہ لاڈ انہوں نے اپنی اولاد سے نہیں کئے جو ہمارے ساتھ کئے۔بلکہ جب کبھی میں نے تنگ کیا تو کہتے تھے عنایت اللہ ! جتنا ابا جان نے مجھے پڑھایا اتنا تو میں پڑھا دوں گا۔آگے تمہاری قسمت اور واقعی انہوں نے پڑھا دیا لیکن میں نے پڑھائی چھوڑی۔مدرسہ میں ہوتے ہوئے انگریزی نہیں رکھی۔سب کچھ برداشت کیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین محترمہ امتہ الرفیق طاہرہ صاحبہ اقرباء سے حسن سلوک کے بارے میں لکھتی ہیں :۔پیارے ابا جان بہت ہی محبت کرنے والے اور بزرگ باپ تھے سب بچوں کو بہت چاہتے خاص طور پر بیٹیوں کو مٹی کہ ایک دفعہ آپ نے فرمایا مجھے خوشی ہے کہ میں نے بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دی ہے۔شفقت اور محبت اپنی جگہ مگر ہمارے ابا جان تربیت سے کسی لحہ غافل نہ ہوتے۔باوجود ہمارے دلوں میں گہری محبت کے آپ کا رعب اور وقار قائم تھا۔سب بہن بھائیوں میں سے میں سب سے چھوٹی ہوں۔جب میری پیدائش ہوئی میں ساتویں بیٹی تھی اور اوپر تلے بہنوں کے لحاظ سے چوتھی تھی۔مسلسل بیٹیوں کے بعد تو قدرتی بات ہے کہ بیٹے کی خواہش ہوتی ہے۔آپ کو میری ولادت کی اطلاع ملی تو آپ بہت خوش ہوئے۔اس وقت آپ قادیان گئے ہوئے تھے۔سب درویشوں کی دعوت کی۔لوگ بہت حیران ہوئے کہ بیٹی اور وہ بھی ساتویں کی پیدائش پر اس قدر خوش ہیں۔آپ سے پو چھا گیا تو آپ نے فرمایا ”مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بیٹی، بیٹوں سے بڑھ کر ہو گی۔ہمارے گھر کا ماحول سادہ تھا۔مگر اس میں اس قدر سکون تھا جو میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔سکول کے بعد گھر آ کر ہم سب نماز پڑھتے اور اپنی پڑھائی میں مصروف ہو جاتے۔ابا جان کے پاس بیٹھک میں رات گئے تک جماعتی کاموں کے سلسلہ میں لوگوں کی آمد ورفت رہتی اور ان کی تواضع کی جاتی۔اکثر سوچتی ہوں اللہ تعالی اس قدر برکت دیتا تھا کہ سب ضروریات پوری ہو جاتی تھیں اور ہم سب پورے اعتماد کے ساتھ اپنی پڑھائی میں مصروف رہتے۔میں نے سکول اور کالج میں محسوس کیا کہ اکثر لڑکیاں یہ سوچتی تھیں کہ اسے تو اس کے ابا اور بھائی وغیرہ پڑھاتے ہوں گے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر کبھی کبھار ابا جان سے کچھ پوچھنا ہوتا تو اس کے لئے رات دیر تک انتظار کرنا پڑتا کہ آپ کو فرصت ہو تو میں آپ سے کچھ پوچھوں۔