حیاتِ خالد — Page 800
789 اور ان کی آخری ملاقات اور آخری بات تھی۔محترم پروفیسر عبدالجلیل صاحب ایم اے لکھتے ہیں :۔گلدسته سیرت ( الفضل ۱۳ ستمبر ۱۹۷۷ء) محترم مولانا ابو العطاء صاحب مرحوم و مغفور تاریخ احمدیت کی ایک درخشندہ اور لازوال شخصیت ہیں۔وہ بلا شبہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ان کی علمی اور ادبی خدمات تاریخ احمدیت میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ان کی انہی خدمات کی بدولت قدرت ثانیہ کے دوسرے مظہر حضرت مصلح موعودؓ نے انہیں خالد احمدیت کے خطاب سے نوازا تھا۔مولانا موصوف نے خدا کے فضل سے بڑی بھر پور زندگی گزاری ان کی عائلی زندگی ماشاء اللہ بڑی شاندار اور قابل رشک تھی۔ان کی طبیعت بڑی سادہ اور عوامی تھی۔باوجود جماعت کے ایک بلند پایہ مقرر اور مناظر ہونے کے وہ اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنے سامنے رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ اعلیٰ علیین میں رکھے اور آپ کے درجات بلند فرماتا رہے۔آمین ه محترم مولانا محمد یار عارف صاحب مولوی فاضل سابق مبلغ انگلستان لکھتے ہیں :- ا خوبیم محترم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی اچانک وفات سے جن اعزاء و احتباء کو سخت صدمہ ہوا ان میں سے ایک میں بھی ہوں۔وہ مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت سے آخری جماعت (ساتویں) تک اور پھر فاضل اجل، عالم بے بدل حضرت حافظ روشن علی صاحب کی زیر تربیت مبلغین کلاس میں میرے کلاس فیلور ہے۔اور پھر ہمیشہ ہم نے عرصہ تک اکٹھے سلسلہ کا کام بھی کیا۔وہ ہر دوست کی وفات پر تعزیتی نوٹ لکھ کر جماعت کو دعا کی تحریک فرما دیا کرتے تھے۔اس لئے میری زندگی میں جب بھی ایسا مرحلہ آیا کہ وفات قریب نظر آ رہی ہو تو یہ تسلی ہوتی کہ وہ وفات کے بعد دعا کی تحریک ضرور فرما دیں گے۔کیونکہ ان کی عمر بھی مجھ سے چھ ماہ کم تھی اور صحت بھی بظا ہر اچھی تھی اس لئے میرا غالب خیال تھا کہ وہ مجھ سے زیادہ عمر یا ئیں گے۔اس کے بعد لکھا۔مرحوم نے بے اندازہ محنت کر کے بھر پور خدمت کی توفیق پائی۔ہر قسم کی تقریری خدمت کے علاوہ شروع سے ہی ہر قسم کی تحریری خدمت (جس کی تفصیل بیان کرنے کی گنجائش نہیں ) اس شان سے سرانجام دی کہ مجھے وہ اپنے ہم عصروں سے منظر و نظر آتے ہیں۔اور پھر جوں جوں عمر بڑھی اپنے دوستوں ، علماء سلسلہ اور دیگر احباب کی خدمت میں بھی کافی وقت صرف کرتے رہے۔مکرم جناب ایڈیٹر صاحب نفت روز و لا ہور نے لکھا ہے کہ ان کی تقریر شروع سے آخر تک یوں ہوتی تھی جیسے ریکارڈ