حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 791 of 923

حیاتِ خالد — Page 791

حیات خالد 780 گلدسته سیر کرنے میں پہل کرتے۔ہر ایک سے محبت اور نرمی سے پیش آتے“۔محترم ملک محمد حنیف صاحب نے لکھا: - محترم بھائی مولانا ابوالعطاء صاحب کو کثرت سے السلام علیکم کہنے کی عادت تھی۔گھر میں ایک کمرہ سے دوسرے کمرہ میں بھی جاتے تو السلام علیکم کہتے“۔(الفضل اا۔جولائی ۱۹۷۷ء صفحہ ۴ ) محترم مولانا بشیر احمد صاحب قمر رقم فرماتے ہیں :- آپ کو کئی دفعہ دیکھا کہ آپ بچوں تک کو سلام کرنے میں پہل کر جاتے اور ان کی دلجوئی کے لئے ان سے کوئی نہ کوئی بات بھی کر لیتے۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں سے بے تکلف نہیں ہوتے۔لیکن میں نے آپ کو اپنے بیٹوں مکرم عطاء الکریم صاحب ، مکرم عطاء الرحیم صاحب اور مکرم عطاء الجیب صاحب راشد سے کئی دفعہ سر راہ ملتے ہوئے دیکھا ہے جبکہ یہ طالب علم ہوا کرتے تھے۔آپ ان کو السلام علیکم کہنے میں پہل کرتے اور کوئی نہ کوئی بات بھی کرتے تھے جس میں محبت و شفقت ہوتی۔محترم مولانا کریم الدین احمد صاحب شاہد قادیان ۱۹۸۳ء میں لکھی گئی تحریر میں سادہ زندگی فرماتے ہیں:- آپ کی گھریلو زندگی کس قدر سادہ تھی اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ غالباً ۱۹۶۳ء کی بات ہے کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر میں اور مکرم مولوی سمیع اللہ صاحب سابق مبلغ بمبئی جمعہ سے کچھ پہلے ربوہ میں آپ کے در دولت پر حاضر ہوئے۔اس وقت آپ مردانہ حصہ میں چند مہمانوں کے ساتھ بیٹھے کھانا تناول فرما رہے تھے ہم دونوں کو بھی آپ نے اصرار کر کے کھانے میں شریک فرمالیا۔اس وقت شاہجم کا سالن اور سادہ روٹی تیار تھی۔نہ مہمانوں میں تکلف تھا نہ میزبان میں تکلف تھا۔اور نہ ہی ما حضر میں تکلف۔مولانا صاحب کا وجود جماعت احمدیہ کے لئے حقیقی معنوں میں آیت قرآنی كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أخرجت للناس کے بموجب نافع الناس وجود تھا۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔مکرم مولانا بشیر احمد صاحب قمر تحریر فرماتے ہیں :- مئی ۱۹۴۹ء میں خاکسار مدرسہ احمدیہ میں داخل ہونے کے لئے آیا۔اس وقت مدرسہ احمدیہ احمد نگر نز در بوہ ہوا کرتا تھا اور آپ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے۔پہلی دفعہ میں ہوسٹل جامعہ احمدیہ کے طلباء کے ساتھ مسجد احمد یہ احمد نگر میں نماز پڑھنے کے لئے گیا۔ہم نماز کے انتظار میں