حیاتِ خالد — Page 769
حیات خالد آپ مزید لکھتے ہیں۔758 گلدسته سیرت جب سے حضرت مولانا صاحب وفات پاچکے ہیں اس وقت سے لے کر آج تک میں تو مولانا صاحب کو مل نہیں سکتا لیکن مولانا صاحب اس وقت سے لے کر آج تک مجھے خواب میں ملتے رہتے ہیں۔رات کو ہی نہیں کبھی کبھی دن کو بھی خواب میں آ جاتے ہیں۔ه محترمہ امہ الرفیق طاہرہ صاحبہ لھتی ہیں :- مجھے حضرت ابا جان کی وفات کی اطلاع مکرمہ بشری بشیر صاحبہ کے تعزیتی خط سے ابا جان کی وفات کے آٹھ دن بعد یعنی ۱۸ جون ۱۹۷۷ء کو ملی ( کیونکہ ان دنوں میں لیبیا میں تھی اور براہ راست فون کی سہولت نہ تھی ) میرے میاں شام کو دفتر سے گھر آئے تو میں نے پو چھا کوئی خط آیا ہے کہنے لگے ہاں تمہاری پروفیسر کا ہے۔میں نے کھولا نہیں۔میں نے خوشی خوشی خط کھولا مگر یہ کیا ؟ یقین ہی نہیں آتا تھا کہ کیا ہو گیا۔کیا یہ حقیقت ہے؟؟ رات بارہ بجے دس منٹ کے لئے آنکھ لگی تو ابا جان خواب میں آئے اور میرے سر پر دست شفقت رکھے کتنی دیر کھڑے رہے اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔شاید مجھے تسلی دینے آئے تھے۔محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی قادیان نے حضرت مولانا 0 " کے وصال کے کچھ عرصہ بعد مکرم عطاء المجیب صاحب راشد کو ایک خط میں تحریر فرمایا: - میں نے۔۔اپریل کے شروع میں ایک خواب دیکھا ہے وہ بہت واضح تھا اور اب تک بھی جب مجھے یاد آتا ہے تو حضرت مولانا ابو العطاء صاحب مرحوم کا پُر رونق چہرہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔میں نے دیکھا کہ میں ایک کمرہ میں ہوں۔درمیانہ سائز کا کمرہ ہے وہاں ایک طرف بستر بچھا ہوا ہے میں اس پر ٹیک لگا کر نیم دراز سا ہوں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت مولانا وہاں تشریف لائے ہیں میں نے پگڑی پہنی ہوئی نہیں دیکھی ، رنگ صاف اور خوب صحت مند چہرے سے صحت کی لالی چمکتی ہے بال سفید پیچھے کی طرف کنگھا کئے ہوئے ہیں۔آکر اس تخت نما بستر پر بیٹھ جاتے ہیں میرے آمنے سامنے اور بے تکلفی سے باتیں ہونے لگتی ہیں مولانا مرحوم کے ساتھ مولوی غلام باری سیف صاحب بھی پلنگ کے ساتھ پڑی ایک کرسی پر بیٹھے ہیں۔باتوں باتوں میں یہ خاکسار مولانا کو بتاتا ہے کہ آپ کے صاحبزادے آپ کی بہت سی کتب اور رسالے قادیان سے، جب جلسہ پر آئے تھے تو ساتھ لے گئے تھے۔تو فرمانے لگے کہ ہاں ایک اس میں سے عطاء المجیب نے مجھے دیا ہے۔اس کمرہ میں دو اور کرسیاں بھی نظر آئیں ایک پر مولوی