حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 747 of 923

حیاتِ خالد — Page 747

حیات خالد 736 گلدستۂ سیرت تربیت دینی شروع کر دی۔جس کا یہ نتیجہ ہے کہ ۱۹۸۰ء سے میں قائد اصلاح وارشاد بنا اور لمبا عرصہ اس اہم خدمت کی سعادت حاصل کرتا رہا۔اس کے علاوہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی صدارت میں ہونے والی مجلس ارشاد میں بھی میری تقریر حدیث کی اہمیت پر رکھوادی اور پھر اسے اپنے تاریخی رسالہ الفرقان میں طبع بھی کروا دیا۔مکرم مولانا صوفی محمد الحق صاحب لکھتے ہیں :- " ” جب خاکسار جامعہ احمدیہ میں داخل ہوا تو آپ اس وقت جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے۔ان دنوں آپ سبز پگڑی پہنے، شیروانی میں ملبوس نہایت ہی دلکش شخصیت معلوم ہوتے تھے۔ہمیں ان سے عربی انشاء منطق اور علم کلام پڑھنے کا شرف حاصل ہوا اور میں نے دیکھا کہ آپ اپنے مضمون کی خوب تیاری کر کے آتے اور بڑی محنت اور توجہ سے اپنے مضمون کو ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کراتے تھے۔مولوی فاضل کے امتحان سے قبل آپ ہمیں اپنے گھر پر بلا کر بھی پڑھاتے۔ٹیوشن لینے کا تو کوئی سوال ہی نہیں بلکہ آپ بسا اوقات ہمیں اپنے گھر سے چائے بھی پلایا کرتے تھے۔اللہ تعالی کی شان ہے کہ اس نے ہمیں ایسے دلربا اور بے لوث اساتذہ سے نوازاتھا۔محترم مولانا محمد صدیق صاحب گورداسپوری لکھتے ہیں :- ر مجھے حضرت مولانا کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقعہ اس وقت میسر آیا جب مدرسہ احمدیہ سے فارغ ہو کر میں نے ۱۹۴۷ء میں جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔اس وقت جامعہ احمدیہ قادیان میں دارالا نوار کے نئے گیسٹ ہاؤں میں ہوتا تھا اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اس دینی درسگاہ کے پرنسپل تھے۔اس وقت سے آپ کے حسن اخلاق علمی تفوق اور تبلیغ کے جذ بہ کا نقش خاکسار کے ذہن میں گہرا ہوتا چلا گیا۔اس عرصہ میں خاکسار نے آپ کو نہ صرف ایک استاد بلکہ ایک مشفق و مهربان مربی کی حیثیت سے دیکھا۔میں نے دیکھا کہ حضرت مولانا طلباء کے صرف مشفق و مہربان استاد ہی نہیں تھے بلکہ ایک مربی اور ہمدرد دوست بھی تھے۔ان کے ہر دکھ درد میں شریک ہوتے اور پدرانہ شفقت کے ساتھ ان کی دلجوئی فرماتے۔طلباء، طلباء ہی ہوتے ہیں خواہ وہ کسی دینی درسگاہ کے ہی کیوں نہ ہوں لہذا بعض اوقات ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں حضرت مولانا سے بعض طالب علم ہلکا پھلکا مذاق بھی کر لیتے مگر آپ نے کبھی