حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 734 of 923

حیاتِ خالد — Page 734

حیات خالد 723 گلدستۂ سیرت محترم محمد عمر صاحب ریٹائر ڈ سپر نٹنڈنٹ پولیس ساہیوال نے حضرت ساحرانہ خطابت کا معجزہ مولانا کی ساحرانہ خطابت کا ایک یادگار اور تاریخی واقعہ بیان فرمایا ہے۔یہ ایمان افروز اور بے حد اثر انگیز واقعہ ذیل میں ملاحظہ فرما ئیں۔محترم محمد عمر صاحب لکھتے ہیں۔قیام پاکستان سے پہلے کی بات ہے میں اس وقت لائل پور ( حال فیصل آباد ) میں پراسیکیوٹنگ سب انسپکٹر پولیس متعین تھا۔ڈپٹی کمشنر خواجہ عبدالرحیم صاحب نے سیرۃ النبی ﷺ کے جلسہ کا اہتمام کیا۔اس میں تقاریر کے لئے مختلف مکاتب فکر کے علماء کو مدعو کیا گیا۔ہمارے سلسلہ کے ایک نہایت مخلص نڈر اور دلیر دوست مکرم مولوی عصمت اللہ صاحب جو ان دنوں ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر بھی تھے اور کافی اثر و رسوخ رکھتے تھے وہ ڈپٹی کمشنر صاحب کو ملے اور ان کو جماعت احمدیہ کی اس جلسہ میں نمائندگی پر راضی کر لیا۔چنانچہ مرکز لکھا گیا اور مرکز سے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو اس جلسہ میں شمولیت کے لئے بھجوایا گیا۔جلسہ کا اہتمام بہت بڑے پیمانہ پر تھا۔بعد دو پہر اس یاد گا رجلسہ کا اہتمام کیا گیا۔کثیر تعداد میں لوگ شریک تھے جن میں لاسکپور کے شرفاء کا طبقہ، وکلاء صاحبان ، ڈاکٹر صاحبان اور دیگر مقررین نے تقریب کو سنجیدہ لوگوں کی محفل بنا دیا تھا۔تقاریر شروع ہوئیں۔معززین نے اپنے صل الله اپنے انداز اور سمجھ کے مطابق اپنے آقا نبی پاک سینے سے عقیدت کے جذبات کا اظہار کیا۔بیشتر تقاریر کا رنگ سیاسی تھا۔جنگی فتوحات اور عسکری کا میابیاں زیادہ تر مقررین کا موضوع رہا۔یا پھر مولوی صاحبان نے اپنے مخصوص انداز میں آنحضرت ﷺ کی زندگی کے متعلق ان باتوں کا ذکر کیا جو صرف عقیدت مندوں کے لئے ہی مخصوص تھیں۔حاضرین میں چونکہ غیر مسلم ہندو سکھ صاحبان وغیرہ بھی شامل تھے اس لئے تقاریر کا اثر زیادہ اچھا نہ ہو سکا تھا۔خصوصاً وکلاء کا طبقہ جو زیادہ ناقدانہ نظر رکھتے ہیں انہوں نے بہت کم اثر قبول کیا۔ان کے جذبات ان کے چہروں سے ظاہر تھے۔آخر میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو بہت تھوڑا وقت غالباً ۱۵ منٹ کا دیا گیا۔حضرت مولانا نے آنحضرت ﷺ کی پاکیزہ زندگی کے روح پر در نقوش اس طرح سے ابھارے کہ تمام حاضرین محو حیرت رہ گئے۔آپ کا موضوع یہ تھا کہ آنحضور ﷺ کی زندگی انسان کے ہر شعبہ زندگی اور ہر مرحلہ کے لئے مشعل راہ ہے۔اس موضوع کو حضرت مولانا نے حضور نبی پاک ﷺ کے عشق میں ڈوب کر ایسی خطابت کے ساتھ بیان کیا اور آپ کی تقریر کا انداز اس قدر دلکش اور حسین تھا کہ حاضرین پر گویا سکتہ طاری ہو گیا۔الفاظ ایسے نپے تلے اور پاکیزہ تھے جیسے منہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔ایک