حیاتِ خالد — Page 727
حیات خالد 716 گلدستۂ سیرت دلچسپ پروگرام رہا۔مجھے خوب یاد ہے کہ اس روز مجھے انگریزی میں تقریر کرتے سن کر اور تبلیغ اسلام کرتے دیکھ کر حضرت ابا جان کو بے انتہا دلی خوشی محسوس ہوئی اور انہوں نے اس کا ذکر بھی کیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے محبت بھری دعاؤں سے اس عاجز کو نوازا۔میں نے یہ واقعہ ایک مثال کے طور پر بہت تامل سے لکھا ہے اور اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت ابا جان کی اپنی اولاد کے بارہ میں تمنا کیا تھی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کی اس بے تاب تمنا کو زندگی میں پورا فرما کر ان کے لئے اسی زندگی میں تسکین قلب و روح کے سامان مہیا فرمائے۔فالحمد للہ علی ذلک۔خدا کرے کہ اگلے جہاں میں بھی انہیں اپنی ساری اولاد کی طرف سے ہمیشہ خوشی کی خبریں پہنچتی رہیں۔آمین محترمہ امتہ الباسط شاہد صاحبہ حضرت مولانا کی خدمت دین کی تڑپ کے بارے میں لکھتی ہیں : - آپ کی شدید تمنا تھی کہ آپ کی ساری اولاد خادم دین ہو۔جب آپ کے بیٹے زیر تعلیم تھے تو آپ کی بڑی بیٹی محترمہ امتہ اللہ خورشید صاحبہ مرحومہ ماہنامہ مصباح کی مدیرہ تھیں۔اس سے آپ بڑے خوش ہوتے تھے کہ میری اولاد میں سے کوئی تو دین کی خدمت کر رہا ہے۔جب بیٹی کی وفات ہوئی تو آپ بے حد رنجیدہ ہوئے۔ان دنوں میرے میاں عطاء الکریم شاہد صاحب کراچی میں بی اے کرنے کے بعد ملازمت کر رہے تھے اور فوج میں جانے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔خاصی حد تک کمیشنڈ آفیسر بننے کی امید پیدا ہو گئی تھی۔اس وقت آپ نے اپنے بیٹے کو لکھا کہ میری بیٹی جو خادمہ دین تھی وہ تو رخصت ہوگئی۔میری خواہش ہے کہ تم وقف کر کے ربوہ آ جاؤ۔بیٹا سعادت مند تھا سب کچھ چھوڑ کر ربوہ آگیا اور اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کر دی۔اس سے آپ کو بے حد خوشی ہوئی۔0 خادم دین بیٹے کے اہل وعیال کا خیال رکھنا بھی آپ کی اسی ترپ کا حصہ تھا کہ خادم دین بیٹا بیوی بچوں سے دوری میں پریشان نہ ہو۔محترمہ امتہ الباسط شاہد صاحبہ مزید لکھتی ہیں :- جب میرے میاں مکرم عطاء الکریم صاحب شاہد صاحب کے لائبیریا جانے کا وقت آیا تو طبعی بات ہے ہم دونوں جدائی کے خیال سے اداس تھے۔ہم دونوں کو پاس بلایا اور فرمایا، بیٹے تم مطلق غم و فکر نہ کرنا میں اپنی باسط اور بچوں کا خیال رکھوں گا۔جس چیز کی ضرورت پیش آئے گی میں مہیا کر کے دوں گا۔کوئی مشکل یا دقت پیش آئی میں دور کروں گا۔بس بے فکر ہو کر اللہ کا نام لے کر رخصت ہو جاؤ اور