حیاتِ خالد — Page 726
حیات خالد 715 گلدستۂ سیرت کہتے ہیں کہ تب اس دوست نے فوراً بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی حالانکہ وہ بیعت کرنے پر کسی بھی طرح رضامند نہیں ہوتے تھے۔ان پر کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی تھی۔مگر حضرت مولانا کی ایک پر حکمت دلیل سارا کام کر گئی۔ذلک فضل الله يوتيه من يشاء حضرت مولانا خادم دین تھے۔ان کا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنادین کے لئے خدمت دین کی تڑپ وقت تھا۔خدمت دین سے آپ کی محبت بھی غیر معمولی تھی۔گویا ایک تڑپ تھی جو آپ کو لگی رہتی تھی۔0 لکھتے ہیں : - حضرت مولانا کے سب سے بڑے صاحبزادے مکرم عطاء الرحمٰن طاہر صاحب ایک دفعہ حضرت ابا جان مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ اگر میری اولاد کے متعلق مجھے یہ خبر ملے کہ اس نے ہزار ہا روپے کمائے ہیں اور مجھے بھجوائے ہیں تو اس کی اتنی خوشی نہ ہوگی جتنی مجھے اس بات کی خوشی ہوگی کہ میری اولاد نے سلسلہ کی خدمت کی ہے اور کسی جلسہ میں تقریر کی ہے۔دین کی کا خدمت اللہ کا انعام ہے اسے آگے بڑھ کر لینا چاہئے۔“ 0 مکرم عطاء الحبیب صاحب را شدا اپنا ایک تبلیغی واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ہر نیک والد کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولا د کو دین کی خدمت کرتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ ئے۔پیارے ابا جان بھی ہمیشہ اس بات کے متمنی اور اس کے لئے دعا گور ہے۔اگر چہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میرا اکثر وقت بیرون پاکستان گزرا ہے لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ حضرت ابا جان کی زندگی میں ایسے متعدد مواقع پیدا ہوئے جن کو دیکھ کر آپ بے حد مسرور ہوئے اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازا۔رحمہ ایک خاص موقعہ وہ تھا جب ۱۹۷۳ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ برطانیہ کے دورہ پر تشریف لائے۔حضرت ابا جان بھی ان دنوں لندن آئے ہوئے تھے۔مقامی پولیس کے افسران کے ایک اجلاس میں تقریر کرنے کیلئے مجھے دعوت موصول ہوئی۔میں نے ابا جان سے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ تشریف لے چلیں۔چنانچہ ہم اکٹھے گئے منتظمین نے پر تپاک استقبال کیا۔ہم دونوں کو سٹیج پر بٹھایا اور پروگرام کے مطابق میں نے تعارف اسلام کے بارہ میں تقریر کی اس کے بعد حاضرین کے سوالات کے جوابات دیئے۔اس موقعہ پر بعض حاضرین نے ابا جان سے ان کے لباس خصوصا پگڑی کے بارہ میں سوالات پوچھے جن کے جوابات ابا جان نے اُردو میں دیئے اور میں نے ترجمہ کیا۔الغرض بہت