حیاتِ خالد — Page 700
حیات خالد 689 گلدسته سیرت کے حضور حاضر ہونے کا ذکر کیا۔یوں لگتا تھا کہ اپنے رب کی ملاقات کے تصور سے دو ایک گونہ انتظار میں ہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ تعبیر الرؤیا کا علم قرآن کریم کے کثرت مطالعہ اور اس پر گہرے تدبر اور غور و فکر کے نتیجہ میں خدا تعالی کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔ابتلاء و امتحان زندگی کا لازمی جزو ہیں۔۱۹۶۶ء میں اس عاجز کو ایک بڑا ابتلاء در پیش ہوا جس کا طبیعت پر گہرا اثر تھا۔عام طور پر والد ماجد اپنے خواب اور کشوف کا تذکرہ نہیں فرمایا کرتے تھے مگر اس واقعہ کے دو چار روز بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی ہے کہ آپ نے اپنے بیٹوں کو خدمت دین کیلئے وقف کیا ہے، اس کے نتیجہ میں آپ کو اور ان بیٹوں کو بڑی برکات ملیں گی۔فالحمد للہ علی ذلک۔محتر مہ امتہ الباسط شاہد صاحبہ تحریر فرماتی ہیں:۔آپ نے کئی سال پہلے اپنے بچوں کو بتایا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک ڈائری پر سنہرے حروف میں ۱۹۷۷ لکھا ہے اور پھر فرمایا کہ یہ میرے لئے ہے۔0 مکرم عطاء الرحمن صاحب طاہر لکھتے ہیں :- احمد نگر میں ہم رہتے تھے تو ابا جان نے بتایا کہ خواب میں مجھے تین بوتلیں پیش کی گئیں۔میں نے ان میں سے جس پر ۷۵ سال تک کار آمد لکھا تھا پی لی۔اس کا یہ مطلب ہے کہ اگر اللہ چاہے تو عمر ۷۵ سال ہو گی۔اگر پر شمسی سالوں کے لحاظ سے آپ ۷۳ سال کی عمر میں فوت ہو گئے البتہ قمری سال ۷۵ بنتے ہیں۔○ ان دو روایات سے ملتی جلتی روایت مکرم عطاء المجیب صاحب راشد نے بھی بیان کی ہے۔وہ بیان کرتے ہیں :- مجھے یاد ہے کہ حضرت ابا جان نے ایک بار ذکر فرمایا کہ انہیں خواب میں ایک بوتل دکھائی گئی جس میں سرخ شربت ہے اور بوتل پر شربت زندگی کا لیبل لگا ہوا ہے اور ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ یہ شربت ۷۵ برس تک کارآمد رہے گا۔مجھے خوب یاد ہے کہ ابا جان نے فرمایا کہ مجھے اس خبر میں کارآمد کے لفظ سے بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہے کہ میری جتنی بھی زندگی ہوگی وہ کارآمد ہوگی۔معذوری کی زندگی نہیں ہوگی اور آخر وقت تک اللہ تعالی خدمت کی توفیق دے گا۔الحمد للہ کہ یہ خدائی وعدہ ہر لحاظ سے پورا ہوا۔عمر بھی قمری لحاظ سے ۷۵ سال ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آخر