حیاتِ خالد — Page 701
حیات خالد 690 گلدسته سیرت تک بھر پور خدمت کی توفیق دی اور آپ خدمت کے راستہ پر سفر کرتے کرتے اپنے مولی کے حضور حاضر ہو گئے۔محترمہ امتہ الباسط شاہد صاحبہ تحریر فرماتی ہیں:- ایک بار آپ اپنے کمرے میں بہت ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ تشریف لائے اور فرمایا کہ آج میں نے بہت اچھی خواب دیکھی ہے۔پھر بتایا کہ خواب میں میں نے ایک بزرگ کو دیکھا ہے۔انہوں نے سبز رنگ کے تین بجے اٹھائے ہوئے ہیں۔سب سے پہلے ایک جہ مجھے دیا وہ میں نے اپنے ہوتے ہیں عطاء الحبیب کو پہنا دیا ہے۔وہ جبہ گھٹنوں تک ہے۔پھر انہی بزرگ نے مجھے دوسرا سبر جبہ دیا ہے وہ بھی میں نے اسی کو پہنا دیا ہے۔وہ بھی گھٹنوں تک ہے۔اس کے بعد ان بزرگ نے مجھے تیسرا جبہ پیش کیا وہ بھی میں نے عزیز ہی کو ہی پہنایا ہے۔یہ جبہ پاؤں تک لمبا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ احسن رنگ میں اس خواب کو پورا فرمائے اور آپ کا پوتا اور آپ کی ساری نسل آپ کی امنگوں اور خواہشوں پر اسی طرح خادم دین بنے جیسے کہ آپ کی تمام زندگی خدمت اسلام میں بسر ہوئی۔0 محترم حافظ قدرت اللہ صاحب مرحوم سابق ہالینڈ، انڈونیشیا و انگلستان جو حضرت مولانا کی اہلیہ ثانی کے بھائی ہیں، رقم فرماتے ہیں:۔حضرت مولانا بہت نیک فطرت تھے اور آپ کی دینداری کی صفات اپنی نظیر آپ تھیں۔دینداری اور روحانیت کا اصل تعلق تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہوتا ہے۔مگر پھر بھی بسا اوقات قلب کے اس اندرونی جذبے کا اظہار بیرونی دنیا میں ہو جاتا ہے۔عام طور پر اس حقیقت کا کسی غیر کو پتہ نہیں چلتا مگر بعض دفعہ اس کے آثار محسوس ہو جاتے ہیں۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ قادیان میں ایک دفعہ منارة المسیح کے باہر اس کے چبوترے پر بیٹھے صبح کے وقت آپ ذکر الہی میں منہمک تھے اور آپ پر نہایت رقت کی سی کیفیت طاری تھی اور حالت عجیب سی لگ رہی تھی۔میں ان کے قریب ہی بیٹھا تھا۔چند منٹ جب آپ کی یہ کیفیت رہی تو میں نے پوچھ ہی لیا۔مولوی صاحب ! خیریت تو ہے۔آپ کا یہ رنگ کیوں ہے؟ پہلے تو وہ خاموش رہے پھر فرمایا۔طبیعت ٹھیک ہی ہے۔ہاں! آج صبح مجھ پر کچھ کشفی سی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔وہ یاد آ رہی ہے۔اس کے تصور سے طبیعت مسرور بھی ہے اور کچھ گدازی بھی۔آپ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ شامل حال رہے اور وہ ہر ابتلاء سے بچائے۔