حیاتِ خالد — Page 699
حیات خالد 688 گلدستۂ سیرت ہو نیوالی رقت اور گداز کو یاد کر کے آج بھی احساس ہوتا ہے کہ مجھے اپنے بزرگ والد سے کس قدر گہری محبت تھی۔اللہ تعالی نے مجھ ناچیز پر احسان فرمایا اور آخر رمضان میں خواب دیکھا کہ گرمی کا موسم ہے اور مسجد مبارک ربوہ کے صحن کے شمالی حصہ میں باجماعت نماز مغرب کے لئے صف بندی ہو رہی ہے۔مسجد کے دروازہ کے قریب میں اپنے جوتے اتار کر نماز مغرب میں شریک ہونے کے لئے آگے جا رہا ہوں۔اتنے میں نماز کیلئے کھڑے ہو نیوالوں میں سے ایک شخص میری طرف آ کر اطلاع دیتا ہے کہ تمہارے والد ماجد وفات پاگئے ہیں۔قدرتی طور پر میں چند لمحوں کے لئے رک کر واپسی کیلئے سوچتا ہوں مگر پھر اللہ کی تقدیر پر راضی ہو کر نماز با جماعت میں شریک ہو جاتا ہوں۔اس خواب سے میں بہت گھبرا گیا اور دعا نیز اس کی تعبیر کیلئے والد ماجد کور بوہ خط لکھا۔جلد ہی آپ کا جواب آ گیا کہ یہ خواب تو بہت مبارک ہے اور اس کی تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح طبعی طور پر سورج کے غروب کے بعد مغرب کی نماز ہوتی ہے۔اور کسی کو مغرب کا وقت ہو جانے پر کوئی حیرت نہیں ہوتی۔اسی طرح آپ کو طبعی طور پر مناسب عمر عطا ہوگی گو محبت کر نیوالے یہ کہتے رہیں کہ جلد رخصت ہو۔گئے۔والد ماجد نے مزید لکھا کہ انہوں نے بھی ان دنوں اسی سلسلہ میں ایک خواب میں شربت کی ایک بوتل دیکھی ہے جس پر تحریر تھا۔یہ پچھتر برس تک کارآمد رہے گا اور آپ کو تفہیم ہوئی کہ یہ شربت زندگی ہے۔اپنے خواب کی تعبیر اور پھر والد ماجد کے خواب سے بڑی تسلی ہوئی اور جذبات تشکر سے میری روح خدا کے حضور سجدہ ریز ہو گئی۔والد ماجد کو اپنی وفات سے سات ماہ پیشتر یہ خواب خوب اچھی طرح یاد تھا جب یہ عاجز لائبیریا میں تبلیغ اسلام کے لئے نومبر ۱۹۷۶ء میں روانہ ہوا۔آپ نے مجھ سے فرمایا کہ قمری حساب سے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے پچھتر برس کی عمر عطا فرما دی ہے۔اگر خدا کی عنایت ہو تو شاید شمسی حساب سے بھی نصیب ہو جائے۔آپ سے شدید جذباتی محبت کے تحت میں نے بیساختہ عرض کیا کہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو آپ کی پیدائش سے نہیں بلکہ آپ کے خواب کے بعد پچھتر برس عطا ہو جا ئیں یعنی کم و بیش پچپن برس مزید! اس پر بے حد محفوظ ہوئے اور فرمایا کہ نہ بھئی! اتنی لمبی عمر نہیں چاہئے بعد ازاں خدا کی تقدیر پوری ہوئی اور اس گفتگو کے ٹھیک سات ماہ بعد آپ نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔اِنَّا لِللَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اب میں سوچتا ہوں کہ اس وقت والد ماجد نے کس اطمینان اور بشاشت قلبی کے ساتھ اپنے رب