حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 675 of 923

حیاتِ خالد — Page 675

حیات خالد ہیں۔الحمد للہ 664 گلدستۂ سیرت حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی تھیں کہ مولانا ابو العطا و صاحب کو جب بھی دعا کے لئے کہا جاتا تو یاد دہانی کی ضرورت نہ ہوتی تھی وہ خود ہی دعا کر کے بعد میں اُس کے متعلق بتا دیا کرتے تھے۔آپ کو قرآن مجید سے بھی بے حد پیار تھا۔تلاوت اتنے پیار سے کرتے تھے کہ دل چاہتا تھا کہ سنتے ہی رہیں۔جس وقت بھی ذرا فرصت ہوتی تلاوت کرنے بیٹھ جاتے تھے۔تہجد کے بعد ، نماز فجر کے بعد اور نماز عصر کے بعد بھی کرتے اور رمضان المبارک میں تو بہت ہی زیادہ تلاوت کرتے تھے اور ایک دن میں کئی کئی پارے پڑھتے تھے۔جب پڑھ چکتے تو قرآن پاک کو بوسہ دے کر بند کرتے تھے۔ایک بار ہم کو ہمری گئے تھے۔وہاں ہم نے رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ گزارا۔ایک روز صبح اُٹھ کر نماز تہجد پڑھی اور روزہ رکھا اور صبح کی نماز کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کرنے بیٹھے۔اس دوران صرف نماز کے لئے ہی اُٹھتے تھے اور پھر پڑھنے بیٹھ جاتے تھے اور مغرب تک پڑھتے رہے۔گویا سارا دن تلاوت کرنے کے بعد انہوں نے روزہ کھولا۔یہ ان کے قرآن کے ساتھ عشق کا واقعہ ہے۔نیز اُن کا اکثر ہی رمضان کے دوران مسجد مبارک ربوہ میں درس القرآن ہوتا تھا۔ربوہ تو تین دن یا چار دن بھی درس دیتے تھے مگر قادیان میں کئی سال سارا رمضان اکیلے ہی ایک سپارے کا روزانہ کھڑے ہو کر روزہ کے ساتھ درس دیتے رہے۔روزے با قاعدہ رکھتے تھے اعتکاف بھی متعدد بار کیا۔تقسیم ملک کے بعد بھی دو بار قادیان جا کر قرآن کا مکمل درس دیا تھا۔ایک دفعہ ربوہ میں اپنے گھر میں بھی عورتوں کے لئے کچھ عرصہ درس دیا تھا مگر اپنی دیگر دینی مصروفیات کی وجہ سے اسے جاری نہ رکھ سکے۔پھر بچوں کو صبح قرآن پڑھانے کی طرف خاص توجہ تھی۔کئی حافظوں کو گھر بلا کر بچوں کا تلفظ صحیح کروایا تھا اور پھر خود بھی وقتاً فوقتاً اُن سے سنتے رہتے تھے۔میری شادی کے دوسرے دن ہی صبح مجھ سے قرآن مجید سنا تھا۔ربوہ گھر میں ایک کمرہ چھت پر بنوایا تھا وہاں جا کر ا کثر تلاوت کرتے تھے۔اور علیحدگی میں دعا ئیں بھی بہت کرتے تھے۔وہ کمرہ در اصل بیت الدعا کے طور پر تھا۔رمضان کا بڑی شدت سے انتظار کرتے تھے اور حج کی بھی شدید خواہش تھی۔آپ کے والد صاحب ۱۹۲۷ء میں فوت ہو گئے تھے۔ان کی وفات کے بعد آپ پر بھاری ذمہ داری کا بوجھ آپڑا تھا جس کو انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا۔اُس وقت آپ کے تین بچے، تین چھوٹے بھائی ، دو بہنیں اور والدہ تھیں۔اپنی ساری اولا د یعنی چار بیٹوں اور سات بیٹیوں کی آپ نے