حیاتِ خالد — Page 674
ایک بیوی اپنے خاوند کے حالات اور سیرت کی بہترین گواہ ہوتی ہے۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھریؒ کی سیرت کے بارہ میں آپ کی اہلیہ محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ نے بڑی محنت سے ایک مفصل مضمون تحریر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی صحت اور عمر میں بہت برکت دے۔اسی مضمون سے سیرت کے باب کا آغاز کیا جاتا ہے۔جس طرح سادہ اور بے تکلفانہ انداز میں آپ نے یہ مضمون لکھا ہے اس میں ایک خاص دلکشی پائی جاتی ہے۔اس انداز کو اسی طرح قائم رکھا گیا ہے۔میری شادی ۱۹۳۰ء میں ہوئی تھی اور ۱۹۷۷ء تک میرا اُن کا ساتھ رہا۔اس عرصہ میں بے شمار واقعات گزرے ہیں جو سب میرے لئے لکھنے مشکل ہیں مگر چند ایک خوبیاں جو ان میں نمایاں طور پر تھیں میں اُن کا ہی ذکر کروں گی۔نماز سے ان کو عشق تھا۔خواہ گرمی ہو یا سردی ، اول وقت پر باقاعدہ مسجد میں جا کر باجماعت پڑھتے تھے اور تہجد کی نماز بھی باقاعدہ پڑھتے تھے اور بڑی رقت کے ساتھ ادا کرتے تھے اور دعاؤں پر ہی ان کا انحصار تھا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت پر بڑا بھروسہ تھا۔ہر کام کرنے سے پہلے وہ دعا کر لیتے تھے۔جب کبھی سفر پر جاتے تو گھر کے سب افراد کو اکٹھا کر کے دُعا کرتے تھے۔گھر میں سے اگر کسی نے بھی جانا ہوتا تو پھر بھی دعا کرتے تھے۔غرضیکہ ہر کام دعا سے شروع فرماتے تھے۔اکثر لوگ ان کو دعا کے لئے کہتے تھے۔حضرت مصلح موعود اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث بھی آپ کو دعا اور استخارہ کے لئے کہتے تھے اور آپ دعا اور استخارہ کے بعد اُس کے نتائج سے بھی آگاہ فرماتے تھے۔آپ کی دعا کے لوگ بہت معتقد تھے اور زندگی میں ہی اللہ نے آپ کو بتادیا تھا کہ آپ کی سب دعا ئیں قبول ہو گئی سفر