حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 659 of 923

حیاتِ خالد — Page 659

حیات خالد 654 آخری ایام حضرت مولانا کی وفات ایک جماعتی صدمہ کے طور پر دنیا بھر کے ہر طبقہ کے ، اکناف عالم سے احمدیوں نے محسوس کی۔چنانچہ مختلف ملکوں سے آنے والے چند خطوط کا مختصر کی۔تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔O مکرم افتخار احمد صاحب شمس نے ابو ظہبی سے لکھا کہ دیار غیر میں حضرت مولانا کی وفات کی خبر میرے لئے بہت بڑا صدمہ تھی۔میری والدہ ماجدہ حضرت مولانا سے روحانی بھائی کی طرح عقیدت رکھتی تھیں اور جلسہ سالانہ پر ربوہ میں میری حضرت مولانا سے ملاقات کرایا کرتی تھیں۔جناب ایس۔ایم۔شہاب احمد صاحب نے کینیڈا سے لکھا کہ میں نے آپ کی بلند پایہ 0 تصانیف سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اس لئے آپ ہمارے محسن ہیں۔O مکرم مولانا صدیق احمد صاحب منور مبلغ انچارج ماریشس نے تحریر فرمایا کہ حضرت مولانا کی رحلت جماعتی صدمہ ہے۔آپ اسلام کے عظیم پہلوان تھے اور بلاشبہ اسلامی تعلیم کی زندہ تصویر تھے۔0 محترم مشتاق احمد صاحب باجوہ سابق امیر و مبلغ انچارج سوئٹزرلینڈ نے زیورک سے محترمہ بیگم صاحبہ حضرت مولانا کولکھا کہ آپ مجاہدوں (مولانا عبدالرحمن صاحب انور اور حافظ قدرت اللہ صاحب کی بہن، مجاہد کی بیگم اور مجاہدوں کی ماں بھی ہیں۔شرق اقصیٰ اور غرب اقصیٰ میں آپ کے جگر گوشے اعلاء کلمتہ اللہ میں مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے گا۔0 لنکاسٹر، برطانیہ سے مکرم ڈاکٹر بشیر احمد صاحب ڈار نے لکھا کہ حضرت مولانا کی زندگی آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہے اور آپ کا نام تاریخ احمدیت میں روشن ستارے کی طرح چپکے گا۔اللہ کرے کہ جماعت میں ایسے علماء دین اور سیوف اللہ قیامت تک پیدا ہوتے رہیں۔آمین 0 مکرم راجہ نصیر احمد صاحب سابق مبلغ سلسلہ پاڈانگ، اللہ و نیشیا ( حال ناظر اصلاح و ارشاد مرکز یہ ربوہ) نے مکرم عطاء الحجیب صاحب راشد کے نام خط میں ان سے اور اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے لکھا کہ حضرت مولانا آپ کے قابل فخر والد تھے تو ہمارے واجب الاحترام بزرگ۔سلاؤ بر طانیہ سے مکرم چوہدری بشارت احمد خان صاحب نے تحریر کیا کہ حضرت مولانا 0 کا انجام نہایت اعلیٰ ہوا کیونکہ آپ آخر دم تک قرآن کریم کی اشاعت میں کوشاں رہے۔0 ڈھا کہ بنگلہ دیش سے محترمہ بیگم صاحبہ ڈاکٹر عبدالصمد صاحب بنت چوہدری ابوالہاشم