حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 660 of 923

حیاتِ خالد — Page 660

حیات خالد 655 آخری ایام خان صاحب مرحوم آف بنگال نے لکھا کہ حضرت مولانا صاحب سے ہم سب کو جو روحانی محبت اور عقیدت تھی اس کا اندازہ بھی شاید آپ لوگ نہ کر سکیں۔ایسی قابل قدر ہستیاں روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔0 ابو ظہبی سے مکرم جان محمد صاحب نے تحریر کیا کہ حضرت مولانا نے خدا کی محبت اور قرآن کریم کی خدمت میں وقت گزارا۔آپ کی زندگی ہمہ تن خدا کے لئے وقف تھی۔ہالینڈ سے مکرم ڈاکٹر عبدالحمید صاحب نے لکھا کہ انہیں حضرت مولانا کی ذات گرامی 0 سے ۱۹۲۸ء سے تعارف تھا۔نہایت پاک فطرت ، خوش اخلاق اور ہمدرد دوست تھے۔کینیا مشرقی افریقہ سے مبلغ سلسلہ اور حضرت مولانا کے شاگرد مولانا عبدالباسط صاحب نے اظہار غم کرتے ہوئے لکھا کہ حضرت مولانا مرحوم نے اپنی خواہش کے مطابق زندگی کے آخری لمحات تک خدمت اسلام کی توفیق پائی۔نہ صرف خود ساری زندگی اسلام کی خدمت میں صرف کی بلکہ اپنی اولاد میں بھی یہ جذبہ پیدا کیا اور انہیں بھی عملا اسلام کی خدمت میں لگا دیا۔اں سعادت پرور باز و نیست خدائے بخشنده مولانا مرحوم کے سب شاگردوں کی طرح خاکسار کو بھی یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آپ مجھ سے اپنی اولاد کی طرح ہی محبت کرتے تھے۔0 ہڈرزفیلڈ برطانیہ سے مبلغ سلسلہ مکرم امین اللہ صاحب سالک نے لکھا کہ حضرت مولانا نے احمدیت کے تبلیغی جہاد میں جس جانفشانی سے حصہ لیا وہ انہی کا اعزاز ہے۔0 نیو یارک امریکہ سے مبلغ سلسلہ مکرم مسعود احمد صاحب علمی نے لکھا کہ حضرت مولانا کی اپنے شاگردوں سے محبت و شفقت کے سلوک کی محبت بھری یاد سے دل رنج و غم کے جذبات میں غرق ہے۔آپ کی زندگی ایک مثالی مومن کی زندگی تھی اور احمدیت کی تاریخ پر آپ نے گہرے اور انسٹ نقوش چھوڑے ہیں۔حضرت مولانا کے چھوٹے بھائی مکرم عطاء المنان صاحب نے جرمنی سے اپنے قلبی جذبات یوں بیان کئے کہ کس طرح لکھوں کہ جانے والے نے ہمارے لئے کیا کچھ نہیں کیا ؟ اللہ تعالٰی کے حضور دعاؤں سے میری بھلائی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔مجھے تو وہ ہر سانس کے ساتھ یاد آتے ہیں