حیاتِ خالد — Page 658
حیات خالد 653 آخری ایام تھے اور آپ نے اپنے پیچھے ایسی اولاد چھوڑی جو دنیا کے کناروں تک اسلام اور احمدیت کا نام بلند کر رہی ہے۔وَذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ 0 ممتاز ماہر تعلیم و فلاسفر حضرت قاضی محمد اسلم صاحب مرحوم نے لاہور سے حضرت مولانا کی بیگم صاحبہ محترمہ سے تعزیت ان کے برادر اکبر مکرم مولا نا عبدالرحمن صاحب انور کے نام ایک دلگداز خط میں کی۔محترم قاضی صاحب موصوف تحریر فرماتے ہیں۔جس بات کا کھٹکا عرصہ سے لگا ہوا تھاوہ آخر ہو کر رہی ، مرضی مولا، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن - حضرت مولوی صاحب کیلئے دعائیں کرنے والے بے شمار عالم ، فاضل مخلص ، سلسلہ کے فدائی ہیں جن کے لئے وہ نمونہ تھے اور نمونہ رہیں گے۔ان کا نام تاریخ میں اعلیٰ مقام پا چکا ہے۔ان کی تحریریں، تقریریں، ان کے اخلاق حسنہ، ان کی سادگی اور فدائیت اس کی ضامن ہیں۔قادیان کے زمانے کی بات ہے۔بے شمار کاموں میں سے ایک کام یہ بھی انہوں نے اپنے ذمہ لیا کہ قادیان میں آئے ہوئے مہمانوں کو عربی پڑھائیں۔مولوی صاحب کے علمی احسانات زندہ جاوید ہیں"۔مکرم ملک رشید احمد صاحب حال امیر ضلع اٹک نے لکھا کہ حضرت مولا نا گونہ گوں خوبیوں کے مالک تھے۔نہایت درجہ شفیق مهربان ، ہمدرد ، غمگسار، رفیق و معاون محبوب و محترم بزرگ پڑوں اور چھوٹوں میں یکساں مقبول، موقع محل کی مناسبت سے بذلہ سنجی کی کیفیت پیدا کر لینے اور اپنوں اور پرایوں کا دل موہ لینے والے، قابل صد احترام و تحسین شخصیت کے مالک و آئینہ دار تھے۔دینی و و نیوی علوم پر آپ کی کشاد و نظر، وسیع مطالعہ و مشاہدہ، فہیم رسا، سلسلہ عالیہ احمد یہ کیلئے ان کی خدمات اور ان کا موجودہ رتبہ میرے جیسے کم علم کیلئے تو آپ کی خوبیوں کا احاطہ ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ سلسلہ عالیہ احمد یہ کو ہمیشہ ایسی شخصیتوں سے نوازتا رہے جن سے سلسلہ کی ہر آن شان و رعنائی ترقی کرتی رہے۔آمین کوئلے سے حتر مہاتہ الحفیظ خانم صاحبہ نے حضرت مولانا کی بیگم صاحبہ کے نام اپنے تعزیتی خط میں لکھا۔میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر لکھتی ہوں کہ مولانا صاحب کی وفات کا تو میرے چھوٹے چھوٹے بچوں کے دلوں پر بھی بہت گہرا اثر ہوا ہے۔میر اسلیم کہتا ہے کہ امی یقین نہیں آتا کہ ہمارے مولانا صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ایسے لگتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔میں کہتی ہوں کہ بیٹے تم بالکل سچ کہتے ہو۔وہ یقینا زندہ ہیں اور زندہ جاوید رہیں گے۔وہ تو خدا کے فضل سے نہایت کامیاب اور قابل رشک زندگی گزار کر اپنے پیارے آقا کے حضور سرخرو ہو کر لا زوال زندگی کے وارث بن چکے ہیں۔“ 0