حیاتِ خالد — Page 657
حیات خالد 652 آخری ایام کے شفیق استاد ہی نہیں بلکہ شفیق باپ کی مانند تھے۔آپ ہمارے سب معاملات کا علم رکھتے اور ملاقات پر خود حال پوچھتے بلکہ عموماً ہمارے چہرہ سے سب کچھ پڑھ لیتے۔ایسے شفیق استاداب کہاں؟ ربوہ سے مکرم سید سجاد احمد صاحب آف شاہ میڈیکوز نے تحریر کیا کہ اہم امور کی ذمہ داریوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا میں فراخ حوصلگی اور خوش خلقی بدرجہ اتم ودیعت کر رکھی تھی جس کا اظہار آپ کی ہر حرکت و سکون سے ہوتا رہتا تھا۔0 کراچی سے مکرم مبارک احمد صاحب بقا پوری ابن حضرت مولانا ابراہیم صاحب بنا پوری نے لکھا کہ حضرت مولانا کی بزرگ ہستی کا میرے دل میں بچپن سے ہی بہت احترام تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے قادیان میں خواب دیکھا کہ مولانا ایک ہجوم کے درمیان سے گھوڑے پر سوارشان سے گذر رہے ہیں اور کوئی شخص بلند آواز سے کہتا ہے کہ حضرت عثمان جا رہے ہیں۔اسی زمانہ سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ بہت بلند اور نمایاں مقام حاصل کریں گے۔0 مکرم مبشر احمد صاحب مظہر نے نوکوٹ سے تحریر کیا کہ وہ ایک سال تک حضرت مولانا کے زیر سایہ ماہنامہ الفرقان میں کام کرتے رہے مگر اس عرصہ میں وہ کبھی ناراض نہ ہوئے۔ان کی وفات پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔0 مکرم محمد اسماعیل صاحب ذبیح نے بنوں صوبہ سرحد سے لکھا کہ حضرت مولانا اپنے احباب کی وفات پر اخبار میں نوٹ تحریر فرمایا کرتے تھے۔حضرت مولانا کو یہ غیر معمولی شرف بھی حاصل تھا کہ باپ اور بیٹے ( مکرم عطاء الجيب صاحب را شد امام بيت الفضل لندن ) دونوں نے ایک ہی سال ۱۹۷۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سٹیج (جلسہ سالانہ ) سے خطاب فرمایا۔0 پشاور سے مکرم عبد السلام خان صاحب نے لکھا کہ حضرت مولانا سید نا حضرت مصلح موعودؓ کے ایک جاں نثار اور فدائی جرنیل تھے۔عالم باعمل، پر وقار شخصیت، عاشق قرآن اور محبت کرنے والے وجود تھے۔محترمہ امتہ الکریم صاحبہ نے جھنگ صدر سے لکھا کہ حضرت مولانا ان کے دینی وروحانی استاد تھے اور ان کی وفات کے شدید صدمہ نے موصوفہ کو ہفتہ بھر تک بستر سے لگا دیا۔0 کو سٹہ سے مکرم میاں بشیر احمد صاحب پاسپورٹ آفیسر نے تحریر کیا کہ حضرت مولانا اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے منفر د عالم ہونے کے علاوہ جماعت کے چوٹی کے علماء اور مبلغین کے استاد بھی