حیاتِ خالد — Page 580
حیات خالد 574 ذاتی حالات متر مدامۃ الرفیق طاہرہ صاحبہ بی۔اے آپ حضرت مولانا کی سب سے چھوٹی اولاد ہیں۔ربوہ میں تعلیم و تربیت حاصل کی۔آپ تعلیمی اور دینی میدانوں میں شروع سے ہی اعلیٰ کامیابی حاصل کرتی رہیں اور اس سلسلہ میں کئی امتیازات کی حقدار ٹھہریں۔آپ کو ربوہ میں احمدی مستورات کے جلسہ ہائے سالانہ پر تقاریر کے کئی مواقع ملے۔طالب علمی کے دور سے ہی آپ کامیاب مقررہ ہیں۔موصوفہ ۱۹۹۱ء سے لجنہ اماءاللہ کینیڈا کی صدر کے طور پر خدمات دینیہ بجالانے کی سعادت حاصل کر رہی ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا ہے۔آپ کی شادی مکرم کریم احمد صاحب طاہر بی ایس سی انجنیئر نگ ( ابن مکرم میاں روشن دین صاحب) سے ہوئی جنہیں لیبیا میں بطور امیر جماعت اور اب کینیڈا میں قیام کے دوران نمایاں جماعتی خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔محتر مہ امۃ اللہ خورشید صاحبہ کا تذکرہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی اولاد میں سے سب سے بڑی آپ کی صاحبزادی ، محترمہ امتہ اللہ خورشید صاحبہ تھیں۔حضرت مولانا کی زندگی میں آپ کی اولاد میں سے صرف محترمہ امتہ اللہ خورشید صاحبہ ایسی تھیں جو بڑی عمر (۳۷ سال) میں فوت ہو ئیں۔( دو بچیاں کم سنی میں بھی فوت ہوئیں ) امتہ اللہ خورشید صاحبہ کی وفات ایک دردناک سانحہ تھا جو حضرت مولانا پر ۵۶ سال کی عمر میں گزرا اور آپ نے مومنانہ صبر اور استقامت سے برداشت کیا۔آپ نہ صرف نہایت ذہین اور لائق تھیں بلکہ خدمت دین کے میدان میں نمایاں تھیں۔بوقت وفات آپ ماہنامہ مصباح کی مدیرہ تھیں۔محترمہ امت اللہ خورشید صاحبہ نے ۱۹۳۵ء میں نجنہ اماء اللہ مرکز یہ قادیان کی ایک رکن کی حیثیت سے با قاعدہ خدمت دین کا کام شروع کیا۔۱۹۴۶ء میں بطور سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری رشد و اصلاح لجنہ اماءاللہ مرکز یہ قادیان ان کا تقرر ہوا۔جون ۱۹۴۷ء تا ستمبر ۱۹۶۰ء میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے رسالہ مصباح کی پہلی خاتون مدیرہ کے طور پر اپنی وفات تک خدمات دین بجالاتی رہیں۔(اس دوران ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۰ ء تک مصباح بوجہ تقسیم ملک جاری نہ رہ سکا تھا )۔حضرت مولانا کی زندگی کا یہ بہت بڑا سانحہ تھا۔آپ نے الفرقان کے صفحات پر محترمہ امتہ اللہ خورشید صاحبہ کا ذکر کر کے اپنی قابل، لائق اور خادمہ دین بیٹی کو زندہ جاوید کر دیا۔محترمہ امتہ اللہ خورشید