حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 56 of 923

حیاتِ خالد — Page 56

حیات خالد 59 ولادت امین اور تعلیم میں جب کبھی مذکورہ بالا رضا بالقضاء کے فقرہ کو یاد کرتا ہوں اور اپنی اس وقت کی کم عقلی کا تصور کرتا ہوں تو میرا دل صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پختہ ایمانوں اور ان کے تو کل کو دیکھ کر ان پر درود پڑھتا ہے اور ان سب کے درجات کی بلندی کیلئے دعا گو ہوتا ہے“۔(الفرقان نومبر ۱۹۶۸ء) حضرت مولانا نے تعلیم کی ابتداء اپنے گاؤں کر یہا کے قریب سکول واقع سلسلہ تعلیم کی تکمیل موسی پور سے کی۔یہاں آپ نے پرائمری پاس کی۔بارہ سال کی عمر میں یعنی ۱۹۱۶ء میں آپ کے والد محترم نے آپ کو قادیان میں مدرسہ احمدیہ میں داخل کروا دیا۔مدرسہ احمدیہ میں آٹھ سال تک تعلیم حاصل کی۔آٹھویں سال مولوی فاضل کی کلاس ہوتی تھی۔مولوی فاضل کے بعد مبلغ سلسلہ بننے والوں کو فاضل اجل علامہ دہر حضرت حافظ روشن علی صاحب کی مبلغین کلاس میں بھیجا جاتا تھا جہاں سے فارغ ہونے کے بعد باضابطہ طور پر خدمت دین کا کام عملی میدان میں شروع ہو جاتا تھا۔حضرت مولانا نے اپنی تعلیم کے آخری ادوار کے سلسلہ میں رقم فرمایا: - مجھے یاد ہے کہ جب ہم مولوی فاضل کلاس میں داخل ہوئے اور یہ ان دنوں مدرسہ کا آٹھواں سال ہوتا تھا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ نے مسجد مبارک میں ایک دن سرسری طور پر فرمایا کہ اگر ان طلبہ کو یو نیورسٹی کے امتحان مولوی فاضل کے بغیر ہی مبلغین کلاس میں داخل کر لیا جائے تو کوئی ہرج نہیں۔یہ ہوشیار ہیں سلسلہ کو مبلغین کی ضرورت ہے مولوی فاضل کی ڈگری کی ہمیں کیا ضرورت ہے؟ اس وقت کے ہیڈ ماسٹر شیخ عبد الرحمان صاحب مصری نے ہمیں یہ بات حضور کے پیغام کے طور پر پہنچائی اور ہم جھٹ مولوی فاضل کلاس چھوڑ کر مبلغین کلاس میں حضرت حافظ روشن علی صاحب کے پاس چلے گئے۔ہمارے پرانے علماء جیسے حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت حافظ صاحب کا خیال تھا کہ ہمارے نئے مبلغین کی چھوٹی عمریں ہوتی ہیں ان کے پاس یونیورسٹی کی سند ضرور ہونی چاہئے۔ہمیں حضرت حافظ صاحب کے پاس پڑھتے ہوئے تین چار مہینے ہی گزرے تھے کہ ایک دن مسجد میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں مولوی فاضل کی سند کے فوائد پر گفتگو چل پڑی۔اللہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے کا وضاحت سے ذکر کیا۔حضور نے بھی اسے پسند فرمایا اور کہا کہ سند ضرور حاصل کرنی چاہئے۔اس پر جب ہماری جماعت کے طلبہ کا ذکر ہوا تو حضور نے فرمایا کہ انہیں بھی سند لے لینی چاہئے میں نے تو سرسری بات کی تھی۔غالباً شیخ مصری