حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 567 of 923

حیاتِ خالد — Page 567

حیات خالد 561 ذاتی حالات جہاں میں اپنے احباب سے مرحومہ کی بلندی درجات کے لئے دعا کا طالب ہوں ویسے ہی یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان بچوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت اور نیکی و صلاحیت کے لئے بھی دعا کریں۔اگر چہ ہر بچہ کی صحیح تربیت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتی ہے مگر وہ بچے جو آغوش مادری سے محروم ہو جائیں وہ خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے رحم کے مستحق ہوتے ہیں اور ان کے متعلق ان کے والد کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔اس موقعہ پر یہ بے انصافی ہوگی اگر میں ان احباب کا شکر یہ ادا نہ کروں۔جنہوں نے دعا کے ذریعہ ہمدردی کی۔اللہ تعالیٰ ان کو اجر عظیم بخشے۔ان کی دعائیں مرحومہ کے حق میں بلندی درجات کا موجب ہوں گی اور وہ بزرگ جو علاوہ دعا کے طبی امداد بھی دیتے رہے وہ خاص شکریہ کے مستحق ہیں۔جن میں سے جناب ماسٹر محمد طفیل خان صاحب مدرسہ احمدیہ، جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب، جناب ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہور، جناب ڈاکٹر فضل کریم صاحب اور جناب بھائی محمود صاحب مالک احمدیہ میڈیکل ہال قادیان خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔جَزَا هُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاء خاکسار طالب دعا اللہ دتا جالندھری قادیان الفضل ۷ ارجنوری ۱۹۳۰ ء صفحه ۲) ۱۹۲۷ء سے باضابطہ طور پر اور اس سے بھی چند سال قبل غیر رسمی طور پر حضرت مولانا دوسری شادی کی خدمات دینیہ کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا اور مناظروں میں آپ کی دھاک بیٹھ چکی تھی۔۱۹۳۰ء میں جب آپ کی اہلیہ اوٹی کی وفات ہوئی تو اس وقت اگر چہ آپ کی عمر صرف ۲۶ سال تھی مگر آپ کی شہرت جماعت میں اور دیگر شہروں میں پھیل چکی تھی۔اس عالم میں گویا آپ حضرت میلہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی نظروں میں آچکے تھے اور آپ کی خصوصی تو جہات کا مورد بن چکے تھے لہذا آپ کی دوسری شادی کے لئے حضرت فضل عمرؓ نے خود شفقت فرمائی۔یہ پُر لطف داستان بھی حضرت مولانا کی زبانی سنئے۔الفرقان کے فضل عمر نمبر میں حضرت فضل عمر کے الطاف کر بیمانہ کے ضمن میں آپ نے یہ تفاصیل بھی رقم فرما ئیں۔حضرت مولانا لکھتے ہیں۔آئیے اب آپ ہمارے امام ہمام رضی اللہ عنہ کی اس شفقت و میری شادی کیلئے تحریک الفت کو بھی ملاحظہ فرمائیں جوحضوڑ نے اس ناچیز خادم کے ساتھ محض ایک نجی معاملہ میں فرمائی۔