حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 568 of 923

حیاتِ خالد — Page 568

حیات خالد 562 ذاتی حالات میری پہلی مرحومہ بیوی کی وفات کے بعد سید نا حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے از خود اپنے ہاتھ سے میری موجودہ بیوی کے والد مرحوم حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب ہوتا لوئی کو (جو ان دنوں سرگودھا میں محکمہ شہر میں ملازم تھے ) مندرجہ ذیل خط تحریر فرمایا:- اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قادیان ۷ ارجون ۱۹۳۰ء مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ آپ کے ہاں ایک رشتہ ہے اور مولوی اللہ دتا صاحب کو بھی اس وقت رشتہ کی ضرورت ہے۔آپ کو مولوی صاحب کا اخلاص اور ان کی نیکی معلوم ہی ہے۔وہ بہت ہو نہار نو جوان اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ترقی کرنے والے ہیں۔اگر آپ پسند فرما ئیں تو میں انہیں اس رشتہ کی تحریک کروں۔امید ہے کہ آپ بہت جلد اس امر کے متعلق مجھے اطلاع دے کر ممنون فرمائیں گے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد اللہ ! اللہ ! کتنی محبت اور ہمدردی ہے اور کس طرح اپنے ادنی ترین خادموں کی حوصلہ افزائی اور دلداری کی جاتی ہے۔حضور کی آخری بیماری میں جب خاکسار زیارت کے لئے جاتا اور برادرم مولوی عبدالرحمن صاحب انور پرائیویٹ سیکرٹری پاس ہوتے تو حضور تقسیم فرماتے ہوئے از راہ مزاح ضرور پوچھتے کہ مولوی صاحب ! انور صاحب سے آپ کی کیا رشتہ داری ہے؟ میں بھی عرض کرتا کہ یہ سب رشتہ داری حضور نے ہی بنائی ہے اور حضور خوب جانتے ہیں۔(الفرقان فضل عمر نمبر صفہ ۲۲ تا ۲۴) سید نا حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس رشتہ کی تحریک ہونے پر حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب ہوتا لوئی نے اپنی صاحبزادی محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ کو اس رشتہ کی رائے حاصل کرنے کے لئے لکھا۔احمدیت نے اسلام کا جو حقیقی تصور پیش کیا ہے اس کا ایک شاندار نمونہ اس رشتہ کے تغیر میں نظر آتا ہے۔وہ اس طرح کہ باوجود یکہ حضرت مولانا نہایت کم عمری میں ہی نیکی اور سعادت کے مرتبہ پر فائز ہو چکے تھے اور خدمت دین کے میدان میں ایک نمایاں شہوار کے طور سامنے آچکے تھے او آپ سے تعلق زوجیت قائم کرنا کسی بھی احمدی خاتون کے لئے سراسر وجہ افتخار ہوتا لیکن اس کے باوجو