حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 545 of 923

حیاتِ خالد — Page 545

حیات خالد 538 متفرق دینی خدمات جامعہ احمد یہ ربوہ اور مختلف ممالک میں اسی قسم کے جامعات اور تعلیمی ادارے یہ خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔جامعہ احمدیہ کے استاد اور پھر جامعہ احمد یہ اور بعد ازاں جامعتہ المبشرین کے پرنسپل کے طور پر آپ نے ایک پوری نسل ایسی تیار کی جو جماعت احمدیہ کی عالمگیر جدو جہد کا ہر اول دستہ قرار پائی۔اس اعتبار سے بلاشبہ حضرت مولانا کو جماعت احمدیہ کی تاریخ ساز خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔آج جب یہ سطور سپرد قلم کی جارہی ہیں تو دنیا کے کئی ممالک میں اور مرکز سلسلہ ربوہ میں حضرت مولانا کے تربیت یافتہ شاگرد اپنے عظیم استاد کی متابعت میں نمایاں خدمات دین بجالا رہے ہیں۔حضرت مولانا کی بطور استاد اور بطور تدریسی منتظم خدمات کا ایک روشن باب ہے۔حضرت مولانا فروری ۱۹۳۶ء میں مصر و فلسطین لبنان اور شام کے مشنوں میں بطور مبلغ کام کرنے کے بعد واپس قادیان تشریف لائے تو ابتداء میں آپ نظارت تعلیم و تربیت اور دعوت و تبلیغ سے منسلک رہے اور مختلف نوع کی اہم خدمات سرانجام دیتے رہے۔بعد ازاں انداز ! ۱۹۴۲ء میں آپ نے جامعہ احمدیہ کے استاد کے طور پر تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔دو سال تک یہ سلسلہ جاری رہنے کے بعد جب آپ کے جو ہر پوری طرح اس میدان میں بھی نمایاں ہو کر سامنے آگئے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی جو ہر شناس نظروں نے آپ کو مزید اعلیٰ خدمات اور قیادت کا اہل پایا اور ۱۹۴۴ء میں آپ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل کے عہدہ جلیلہ پر فائز کر دئیے گئے۔آپ نے ۲۴۔مئی ۱۹۴۴ء کو یہ عہدہ اس وقت سنبھالا جب حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ جو کہ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے تعلیم الاسلام کالج قادیان کے پرنسپل ہو گئے۔آپ کے متعلق حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ نے درج ذیل۔ریمارکس دیئے جو آپ کی سروس بک میں درج ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے تحریر فرمایا :- مکرم ابو العطا و صاحب نے دو سال تک میرے ساتھ کام کیا ہے۔عالم بھی اچھے ہیں اور معلم بھی۔طلباء میں علمی قابلیت بڑھانے کا خاص شوق ہے اور اس کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔میرے ساتھ کما حقہ تعاون کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ انہیں اس نئے عہدے کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین" (میرزا ناصر احمد دستخط پر نسل و مبر پرنسپل ) ۱۹۴۷ء میں ہندوستان کو برطانوی راج سے آزادی ملی اور ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو نئے ملک دنیا کے نقشے پر ابھرے۔قادیان کو سراسر ظلم کی راہ سے ہندوستان میں شامل کر دیا گیا۔نتیجہ