حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 498 of 923

حیاتِ خالد — Page 498

حیات خالد 496 تصنیفات (1) کیا یسوع مسیح کے سوا کوئی بے گناہ ہے؟ (۲) کیا یسوع حقیقتاً خدا تھا ؟ (۳) کیا مسیح صلیب پر مر گئے ؟ اس ایمان افروز مناظرہ کے بارہ میں خود حضرت مولانا نے تحریر فرمایا :- ہفتہ وار ایک ایک مضمون پر نہایت امن سے مناظرہ ہوتا رہا اور ان مناظرات کا نتیجہ یہ تھا کہ عیسائیوں کے عقائد کا بطلان اور اسلامی عقیدوں کی حقیقت ثابت ہو گئی۔میرے بعض دوستوں نے چاہا کہ میں ان مناظرات کو اجمالی طور پر بصورت کتاب شائع کر دوں تا کہ عامۃ الناس بھی جان لیں کہ عیسائیوں کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ ان کے مذہب کا بطلان خودان کی الہامی کتابوں سے ثابت ہے۔میں نے اس تجویز کو پسند کیا اور اب میں اپنے وہ دلائل مختصر اذکر کرتا ہوں جو میں نے مناظرہ کے محدود وقت کے لحاظ سے ذکر کئے تھے۔ہاں مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ڈاکٹر فیلی بس اور ان کے ساتھی جواب سے بالکل عاجز آگئے کیونکہ وہ تمام لوگ جو مناظرہ میں حاضر تھے اس امر کے چشم دید گواہ ہیں بلکہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے خود بھی اپنی شکست کو بری طرح محسوس کیا اور ان کے اور ان کے ساتھیوں کے چہروں پر اس کی علامات ظاہر تھیں۔باقی اگر کسی کو ہماری بات میں شک ہو تو وہ ان مناظرات کے خلاصہ کو بغور پڑھے اور اگر ان دلائل کو رد کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو میدان میں آ کر ایسا ( مباحثه مصر صفحه ۶،۵) کر دکھائے۔یہ مباحثہ عیسائی عقائد کے بطلان اور اسلام کی واضح فتح کا نمایاں نشان ہے۔خود حضرت مولانا نے اس مباحثہ کے اُردو ترجمہ شائع شدہ اکتوبر ۱۹۶۱ء کے شروع میں ” پادری صاحبان کے نام کھلی دعوت۔مسلمان بھائیوں کی خدمت میں درخواست“ کے عنوان سے تحریر فرمایا:- ریہ مناظرہ جو قارئین کے ہاتھ میں ہے قاہرہ میں ہوا۔بعد میں میں نے اسے اپنے عربی رسالہ میں اسی چیلنج کے ساتھ شائع کیا کہ بلاد عر بیہ میں کوئی دوسرا پادری اگر جواب کی طاقت رکھتا ہے تو جواب دے۔اسی عربی مضمون کا ترجمہ نومبر ۱۹۳۳ء میں رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان کے خاص نمبر میں شائع کیا گیا مگر کسی پادری کو نہ بلا دعر بیہ میں اور نہ ہندوستان میں جواب لکھنے کی جرات ہوئی۔