حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 429 of 923

حیاتِ خالد — Page 429

حیات خالد 425 ماہنامہ الفرقان مسلمان جب تک قرآن مجید پر عمل کرتے رہے انہیں اللہ تعالیٰ کے قرب کے علاوہ دنیوی عزت ورفعت بھی حاصل رہی لیکن جب انہوں نے زندگی کے اس سرچشمہ سے انحراف اختیار کیا تو ان کی حالت بدل گئی وہ دوسروں کو اس پیغام سردی کی طرف دعوت دینے کی بجائے خود ہی اس کی برکات سے محروم ہو گئے۔وہ بولتی کتاب ان کے لئے بند کتاب قرار پا گئی۔یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ مسلمان قرآن مجید کی حقانیت ، اس کی عظمت اور اس کے حسن و جمال سے نا آشنا ہو گئے۔قرآن مجید کے معارف و نکات اور پاک تعلیمات سے بیگا نہ ہو گئے۔اس کی قوت قدسیہ اور جاذبیت کا نمونہ ان میں موجود نہ رہا۔اس کی بے مثل فصاحت و بلاغت اور بے نظیر علوم ان کی نظروں سے پوشیدہ ہو گئے۔گویا آیت قرآنی وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: ۳۱) غیروں کی بجائے خودان پر چسپاں ہونے لگی۔اب ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ مسلم قوم کے رجوع الی القرآن کے سامان پیدا فرماتا۔تا ان کی بگڑتی ہوئی بنتی اور وہ پھر آسمانی نوشتوں کے مطابق دنیا کے ہادی اور رہنما قرار پاتے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی دستگیری فرمائی اور کچھ آسمانی اور کچھ زمینی ایسے سامان پیدا فرمائے جن کے نتیجے میں مسلمانوں میں قرآن مجید کے متعلق زندہ یقین پیدا ہو اور وہ پھر اس زندگی بخش کلام کی لذت سے بہرہ اندوز ہوں اور ساری دنیا کو جو روحانیت سے بے نصیب ہونے کے باعث تاریکیوں میں ٹھوکریں کھا رہی ہے پھر اس آب حیات سے شناسا کریں اور پھر ایک مرتبہ دنیا گہوارہ معرفت اور جنت ارضی بن جائے۔اس الہی مشیت کے نفاذ کے لئے ظاہری طور پر تمام ممالک اور بر اعظموں کو با ہم ایسا متصل کردیا گویا وہ سب ممالک ایک ملک بلکہ ایک شہر ہیں اور روحانی طور پر عظیم الشان قرآنی معلم کو مبعوث فرما دیا اور اس کے ساتھ ہی قلوب میں ایک عدیم المثال انقلاب پیدا کر دیا کہ ہر دل پکار رہا ہے کہ دنیا کی تمام مصیبتوں کا حل اور انسانوں کی ساری بیماریوں کا مداوا قرآن مجید میں ہے۔مسلمانوں میں قرآن مجید کی محبت کا غیر معمولی جوش موجزن کر دیا اور غیر مسلموں میں قرآن پاک پر تنقید کی رو جاری ہو گئی۔ان تمام حالات کا طبعی اور لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اپنوں اور بیگانوں کی نظر میں قرآن مجید کو ایک مرکزی نقطہ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔قرآن مجید پر عمل پیرا ہونے اور اس کی دعوت کو زمین کے کونے کونے تک پہنچانے کیلئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ انسان اس کی تعلیم سے آگاہ ہو۔اس کے فضائل و کمالات کا واقف ہو، اس کی