حیاتِ خالد — Page 417
حیات خالد 412 پاکستان کی قومی اسمبلی میں سے پاک کر کے مرتب کرنے کی نگرانی کا کام ان کے سپرد کیا گیا ہے لیکن اس سلسلہ میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ خصوصی کمیٹی کی اس کارروائی کا کیا بنا ہے اور نہایت قیمتی اور یادگار مواد کو مولانا موصوف کے حسب خواہش محفوظ کرنے کا انتظام کس مرحلے میں ہے۔(۸ ستمبر ۱۹۷۵ء) الفرقان: فیصلے کا یہ کیا انوکھا طریق ہے کہ خود ہی لوگ مدعی ہوں اور خود ہی جج بن جائیں اور خود ہی فیصلے کر دیا کریں اور پھر خود ہی اپنی اغلاط کی تصحیح کر لیا کریں؟ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ خصوصی کمیٹی اپنے ہی ایک رکن کو جو فریق مخالف میں شامل تھا مقرر کر دے کہ اپنے ریکارڈ کو گھر میں بیٹھ کر ” اغلاط سے پاک کر کے مرتب کرے۔ظاہر ہے کہ مولوی انصاری صاحب اپنی اور اپنے ساتھیوں کی اغلاط کو ہی درست کرنے کی کوشش کریں گے۔اے اللہ! اس دنیا میں انصاف کے بھی کیا نرالے طریقے ہیں۔حکومت پاکستان اصل کا رروائی کو شائع کرنے سے کیوں معذور ہے؟ (ماہنامہ الفرقان ستمبر ۱۹۷۵ء صفحه ۱۵) قومی اسمبلی کے فیصلے کے بارے میں اہم مواد کو ریکارڈ کرنے کی خدمت حضرت مولانا نے رسالہ الفرقان کے ذریعے انجام دی۔ذیل میں دو اہم اقتباسات پیش ہیں جو بلاشبہ تاریخ احمدیت کا اہم باب ہیں۔حضرت مولا نا شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے یہ اہم تاریخی ریکارڈ مستقبل کے مورخ کے استفادہ کے لئے محفوظ کر دیا۔یہ اقتباسات الفرقان سے لے کر اس کتاب میں منتقل کر کے ہم بھی اس تاریخی امانت کو قارئین کے ہاتھوں میں دے رہے ہیں۔دونوں اقتباسات پیش خدمت ہیں۔قومی اسمبلی کے فیصلہ کے متعلق دوا ہم بیانات مفتی محمود کی تقریر اور الطاف حسن قریشی کی تحریر پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلہ ستمبر ۱۹۷۴ء کے بارے میں اسی وقت سے پاکستان اور بیرون پاکستان چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔قابل غور امور یہ ہیں کہ آیا قومی اسمبلی کے دائرہ اختیار میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اہل پاکستان کے مذاہب کا فیصلہ کرے اور جس کو چاہے مسلمان قرار دے اور جس کو چاہے غیر مسلم ٹھہرا دے؟ پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ احمدیوں کے بارے میں اسمبلی کا فیصلہ کن حالات میں کیا گیا اور کس بناء پر کیا گیا ہے؟