حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 418 of 923

حیاتِ خالد — Page 418

حیات خالد 413 پاکستان کی قومی اسمبلی میں خاکسار راقم السطور اس وفد کا ایک رکن تھا جو جماعت احمدیہ کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش ہوا تھا۔اس نے قومی اسمبلی کے اندر ممبران اسمبلی کے چہرے پڑھے تھے۔ان کے تاثرات کو دیکھا تھا۔ممبر علماء کی اضطرابی کیفیت کو مشاہدہ کیا تھا۔حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ بنصرہ کے ایمان افروز بیانات اور پھر جناب اٹارنی جنرل کے سوالات اور حضور ایدہ اللہ بنصرہ کے جوابات کو پوری توجہ سے سنا تھا۔اسے اس دید و شنید کے بعد ایک لمحہ کیلئے بھی یہ خیال نہ ہو سکتا تھا کہ ممبران اسمبلی احمد یوں کو Not Muslim قرار دے سکیں گے۔مگرے استمبر ۱۹۷۴ء کو ایسا ہی اعلان ہو گیا۔العجب ! ہمیں جناب صدر قومی اسمبلی (سپیکر صاحب) کی اس خواہش کا احترام ہے کہ اسمبلی کی کارروائی کو راز سمجھا جائے اور کھلے بندوں اسے بیان نہ کیا جائے اس لئے ہم تو ابھی اس بارے میں خاموش ہیں مگر دوسرے لوگ اپنے سیاسی و غیر سیاسی مقاصد کی خاطر فیصلہ ۷ ستمبر کے سلسلہ میں کچھ صحیح اور اکثر غلط باتیں شائع کر رہے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت ساری کارروائی کو شائع کر دے۔آج ہم قارئین الفرقان کے اضافہ علم کے لئے دوسرے لوگوں کے دو اہم بیان درج کرتے ہیں۔پہلا بیان جناب مفتی محمود صاحب کا ہے۔انہوں نے کراچی کے ایک استقبالیہ میں قومی اسمبلی کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ :- اسمبلی میں قرار داد پیش ہوئی اور اس پر بحث کے لئے پوری اسمبلی کو کمیٹی کی شکل دیدی گئی۔کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ مرزائیوں کی دونوں جماعتیں خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی۔ان کو اسمبلی میں بلایا جائے اور ان کا موقف سنا جائے“۔دوسرا بیان جناب الطاف حسن قریشی مدیر اُردو ڈائجسٹ“ لاہور کا ہے۔وہ عوامی حقوق کی جنگ کے زیر عنوان تحریر کرتے ہیں کہ : اس امر واقعہ سے انکار کی گنجائش نہیں کہ پہلی ترمیم اور دوسری ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی اور دوسری ترمیم میں بالخصوص تمام قواعد وضوابط ایک طرف رکھ دیئے گئے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس ترمیم کا تعلق قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے تھا۔ہم نے اس خطر ناک پہلو کی پہلے ہی نشان دہی کی تھی کہ وزیر اعظم ایک پتھر سے دو شکار کرنا چاہتے تھے۔ایک طرف دستور میں ترمیم کر کے عوامی جذبات پر فتح حاصل کر لی جائے اور دوسری طرف پارلیمنٹ کو دستوری ترمیم عجلت میں پاس کرنے کا خوگر بنا دیا