حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 405 of 923

حیاتِ خالد — Page 405

حیات خالد 398 بہائیوں کے زعیم شوقی آفندی سے ملاقات اہم شخصیات سے ملاقاتیں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے اپنے قیام فلسطین کے دوران بہائیوں کے زعیم شوقی آفندی سے ملاقات کی۔اس ملاقات کا ذکر آپ نے کتاب "برہان ہدایت میں مطبوعہ اپنی تبلیغی یاد داشتوں کے آخر میں کیا۔حضرت مولا نا تحریر فرماتے ہیں۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقالہ کو ختم کرنے سے پہلے بطور تمہ اس ملاقات کا بھی ذکر کر دیا جائے جو حیفا ( فلسطین) میں بہائی زعیم شوقی آفندی سے ہوئی تھی۔حیفا بہائیوں کا مرکز ہے۔متوفی لیڈر شوقی آفندی وہاں ہی رہا کرتے تھے اور مجھے بھی قیام بلا د عر بیہ (۱۹۳۱ء تا ۱۹۳۶ء) کے دوران کئی سال تک حیفا میں رہنے کا موقع ملا ہے۔میں نے دیگر بہائیوں کے علاوہ عبد البہاء عباسی آفندی کے بھائی محمد علی صاحب سے بھی ملاقات کی تھی۔یہ صاحب عبد البہاء کے مخالف تھے۔انہیں محروم الارث کر دیا گیا تھا۔شوقی آفندی عبد البہاء کے نواسے تھے۔میں چند احمدی احباب کے ساتھ ان سے ملنے کے لئے ان کے مکان پر گیا۔عام خیریت کے استفسار کے بعد حسب ذیل گفتگو ہوئی جو اختصار اورج ہے۔میں نے عرض کیا کہ آپ بہائیت کی امتیازی تعلیم پیش فرمائیں۔کہنے لگے کہ ہماری خاص تعلیم یہی ہے کہ سب انسان بھائی بھائی ہیں۔میں نے کہا کہ یہ تعلیم تو قرآن مجید میں موجود ہے۔قرآن پاک فرماتا ہے کہ ہم نے سب انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا ہے۔پس اس لحاظ سے وہ سب بھائی بھائی قرار پاتے ہیں۔پھر قرآن مجید مراحل کہتا ہے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ کہ سب مومن بھائی بھائی ہیں۔اس لئے انسانی اور ایمانی اخوت کے لحاظ سے بہائیت کے پاس کوئی امتیازی تعلیم نہیں ہے اور جب تک قرآن مجید سے بہتر تعلیم نہ پیش کی جائے ، اس کے منسوخ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جناب شوقی آفندی کہنے لگے۔کہ تعلیم تو قرآن مجید میں بھی موجود تھی۔مگر مسلمان گروہ در گروہ ہو کر باہم جھگڑتے تھے۔میں نے کہا کہ اس میں تعلیم اور شریعت کا کیا قصور ہے؟ جہاں تک گروہ بندی اور جھگڑنے کا سوال ہے تو وہ اس تھوڑے سے عرصہ میں آپ لوگوں میں بھی پیدا ہو چکا ہے۔بانی ہیں پھر بہائی ہیں۔پھر از لی ہیں اور خود بہائیوں میں جھگڑے ہیں۔عبد البہاء اور محمد علی میں تنازعہ ہے اور بہاء اللہ کے خاندان کے جھگڑے عدالتوں تک جاچکے ہیں۔پس مسلمانوں کی فرقہ بندی قرآنی تعلیم کے منسوخ قرار پانے کی ہرگز وجہ نہیں بن سکتی۔شوقی صاحب کہنے لگے کہ یہ بات ٹھیک ہے۔مگر۔