حیاتِ خالد — Page 359
حیات خالد 359 ممالک بیرون کے اسفار و بر کا نہ عرض کرنے کیلئے کہا نیز فرمایا کہ ہم حضور کے سب احکام کی پابندی کریں گے اور انشاء اللہ حضور کی ہر آواز پر لبیک کہیں گے۔اس علاقہ میں احمدی جماعت چند سالوں سے قائم ہوئی احمدیت کیلئے قربانی کی ایک مثال ہے۔ابتداء میں صوفی سقیم الدین صاحب اور مکرم محمد ابراہیم صاحب ترانی پور نے بیعت کی تھی۔مکرم محمد ابراہیم صاحب کی عمر اس وقت ۶۹ سال ہے۔ان کے بیعت کرنے پر علماء نے گاؤں کے لوگوں کو ان کے ہلاک کرنے پر برانگیختہ کیا۔ان کے گلے میں ڈیڑھ من کے قریب لکڑیاں باندھ کر ان پر مٹی کا تیل ڈال دیا گیا اور دیا سلائی لگانے ہی والے تھے کہ ایک شخص نے مداخلت کر کے ان کو روک دیا۔اس طرح ہمارے اس بھائی کی جان اللہ تعالی نے بچا لی اور اپنے بندے ابراہیم پر آگ کو ٹھنڈا کر دیا۔الحمد للہ۔پولیس کے پوچھنے پر مولویوں نے اپنی انگیخت کا انکار کر دیا جس سے لوگوں پر اچھا اثر ہوا۔اور کچھ لوگ احمدیت میں داخل ہو گئے۔میدان دور دراز علاقوں کے احمدیوں کی قربانی کی ایک مثال ہے۔۸ مارچ کو نماز فجر کے بعد واپسی کا پروگرام تھا۔صدر سندر بن سے ربوہ کیلئے واپسی جماعت اور دیگر بہت سے احباب نماز کے بعد مشایعت کیلئے ساتھ ہو لئے۔ہند و صاحبان کے تین نمائندے بھی الوداع کہنے کیلئے آئے ہوئے تھے۔مسجد احمدیہ کے پاس سے ہی چھوٹی ندی میں چھوٹی کشتی پر سوار کرا دیا گیا اور احباب کنارے پر چلتے رہے۔جس جگہ بڑے دریا میں موٹر لانچ کھڑی تھی وہاں تک سب دوست تشریف لائے۔دعا کے بعد مصافحے اور معاشقے ہوئے اور پُر نم آنکھوں کے ساتھ احباب آٹھ بجے کے قریب ہم سے جدا ہوئے اور دخانی کشتی پانیوں کو چیرتی ہوئی دو بجے دن کے قریب ہمیں ست خیرہ گھاٹ پر پہنچا رہی تھی۔الحمد للہ۔ہم نے یہاں پر شکریہ کے ساتھ موٹر لانچ کے کارکنوں کو رخصت کر دیا۔یہ لوگ اور ان کے انچارج مکرم افسرالدین صاحب بہاری اور جناب محمد کفیل صاحب بہاری بہت محبت اور سلوک سے پیش آئے۔جزاھم اللہ خیرا۔ست خیر ہ گھاٹ سے ہمیں بذریعہ کار مکرم میجر ملک عبدالرحمن صاحب اپنے مکان پر جیسور لے آئے۔یہاں کے مقامی احباب سے ملاقات ہوئی۔مکرم میجر ملک نیاز احمد صاحب اور مکرم میجر ملک سعید احمد صاحب اور محترم عبد الرحمن صاحب بہاری ہیڈ ماسٹر سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔رات بسر کرنے کے بعد 9 مارچ کو ا ا بجے دن حسب پروگرام امیر صاحب کی معیت میں ہوائی جہاز کے ذریعہ جیسور سے